ؔ بلوچستان سے دوسرے صوبوں کو گندم کی ترسیل پر پابندی؛ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا فیصلہ

ڈی جی کموڈٹی مینجمنٹ شجاعت علی کھوسو کی سربراہی میں فلور ملز، رائس ملز ایسوسی ایشن اور تاجر برادری کے نمائندوں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال اور ڈائریکٹر سی ایم ڈی نثار احمد مستوئی نے بھی شرکت کی اجلاس کے دوران شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ حکومتِ بلوچستان نے گندم کی دوسرے صوبوں کو ترسیل پر پابندی عائد کر دی ہے تاکہ صوبے میں گندم کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے حکام کے مطابق حکومت نے محکمہ کموڈٹی مینجمنٹ کو نجی ایگریگیٹرز کے ذریعے 5 لاکھ بوری گندم خریدنے کا ہدف دیا ہے، جبکہ سرکاری سطح پر گندم کی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہیاجلاس میں فلور ملز، رائس ملز ایسوسی ایشن اور تاجر برادری کے نمائندوں نے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ گندم کی خریداری کے عمل میں تاخیر کے باعث سندھ اور خیبرپختونخوا سے آنے والے خریدار بڑی مقدار میں گندم خرید کر لے گئے۔
مزید یہ کہ دفعہ 144 کے نفاذ میں بھی تاخیر ہوئی، جس کے باعث غیر قانونی ترسیل کو بروقت روکا نہ جا سکا شرکا نے نشاندہی کی کہ بعض عناصر غیر معروف راستوں کے ذریعے گندم کی دوسرے صوبوں میں منتقلی جاری رکھے ہوئے ہیں جس پر تشویش کا اظہار کیا گیا اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ایس پی استامحمد کو صورتحال سے مکمل طور پر آگاہ کیا جائے گا تاکہ بارڈرنگ پوسٹس پر نگرانی سخت کی جا سکے اور گندم کی غیر قانونی ترسیل کی مثر روک تھام ممکن بنائی جا سکے حکام نے واضح کیا کہ ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اس موقع پر فلور ملز، رائس ملز ایسوسی ایشن اور تاجر برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ محکمہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور حکومت کے گندم کے اسٹریٹیجک ریزرو کے ہدف کے حصول میں اپنا کردار ادا کریں

Leave A Reply

Your email address will not be published.