:زاہدہ آفتاب بھٹی نے کہا ہے کہ مفت پیشہ ورانہ تربیت کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے جامع اقدامات اٹھانا ضروری ہیں، اگر ایک عورت خود کو بااختیار بناتی ہے تو وہ کمیونٹی اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے۔اتوار کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے زاہدہ آفتاب بھٹی نے کہا کہ ان کے خاندان میں لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں تھی لیکن خاندان کی طرف سے چیلنجز کے باوجود انہوں نے اپنے بڑے بھائی میاں ارشد شہید کے تعاون سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تا ہم بعد ازاں اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکی۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کا تہیہ کر رکھا تھا اسی لئے سلائی کڑھائی کے شوق کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جو میں نے اپنی بڑی بہن سے 12 سال کی عمر میں سیکھی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ خوبصورتی سے تیار کردہ کپڑے بنانے کے اس کے ہنر کو جب گاؤں میں ان کے کام کو تسلیم کیا گیا تو گھر والوں اور دوستوں کی طرف سے بہت جلد ہی اس کام کی تعریف کی جانے لگی۔ زاہدہ نے مزید کہا کہ میں نے معذور خواتین سمیت غیر تعلیم یافتہ اور کم پڑھی لکھی خواتین کو تین ماہ کے مفت سلائی کورسز کرا رہی ہوں۔ تربیت حاصل کرنے والی خواتین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کے لیے تربیت کا عمل صبح اور شام کی شفٹوں میں تقسیم کیا اور اس نے تکمیل پر سرٹیفکیٹ بھی فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ خواتین اعتماد کے ساتھ روزگار کے مواقع تلاش کر سکیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ میں نے سلائی، کٹنگ، ملبوسات سازی، بُنائی اور یہاں تک کہ پھولوں کے انتظامات کے متعدد پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کو مکمل کرکے نئی مہارتیں سیکھیں۔
زاہدہ آفتاب بھٹی 2008 میں بارہ کہو اسلام آباد منتقل ہوگئیں اور خواتین کے لیے ایک پیشہ ورانہ تربیتی مرکز قائم کیا۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سالوں کے دوران ایک ہزار سے زائد خواتین کو تربیت دی گئی ہے جن میں سے اکثر نے اپنا کاروبار شروع کیا ہے یا اپنی نئی مہارتوں کے ذریعے اپنی گھریلو آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔ ہمارے تربیتی سینٹر میں مختلف کورسز پیش کئے جاتے ہیں ، ضرورت مند خواتین کے لیے تربیت مفت ہے اور جو لوگ اس کی استطاعت رکھتے ہیں وہ معمولی فیس ادا کرتے ہیں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تربیت حاصل کرنے والی بعض خواتین اپنے آؤٹ لیٹس چلا رہی ہیں جب کہ دیگر اپنے گھر والوں کی کفالت کے لیے گھر سے کام کرتی ہیں۔ اپنی گفتگو کے آخر میں زاہدہ آفتاب بھٹی نے کہا کہ اگر ایک عورت خود کو بااختیار بناتی ہے
تو وہ دوسروں کو بااختیار بنا سکتی ہے جبکہ کمیونٹی اور ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال سکتی ہے۔واضح رہے کہ زاہدہ آفتاب بھٹی کو ضلع حافظ آباد کے گاؤں بہلول پور بھٹیاں میں خواتین کو بااختیار بنانے کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے جس کی وجہ معذور افراد سمیت غیر تعلیم یافتہ اور کم تعلیم یافتہ خواتین کے لیے سلائی کے کورسز منعقد کروانا ہیں۔