:سپریم کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا ہے کہ پاکستان میں جانوروں کے حقوق کے تحفظ کے لئے ضروری ہے کہ ان پر ہونے والے ظلم پر سخت سزا کا تعین کیا جائے۔ وہ ہفتہ کے روز لاہور میں جانوروں کے حقوق اور ماحولیات پر کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں ۔جسٹس عائشہ اے ملک نے کہا کہ ضرورت ہے کہ جانوروں کے حقوق پورے کیے جائیں،
تنظیمیں اس کے لیے اچھا کام کر رہی ہیں، اس پر مزید کام ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ جس طرح انسانوں کو بنیادی حقوق چاہئیں، اسی طرح جانوروں کے بھی حقوق ہونے چاہئیں، جانوروں کے کھانے اور پینے کا انتظام ہونا چاہیے، آوارہ کتوں کو مارنے کے کیس پر بہت غور و فکر کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کی جج نے کہا کہ ٹولنٹن مارکیٹ میں جانوروں کی صورتِ حال پر تشویش ہے، کیس کے دوران کسی کو نہیں پتہ تھا کہ کس قانون کے تحت کتوں کو مارا جاتا ہے، جہاں انسانی جانوں کے حقوق مقدم ہیں، وہیں جانوروں کے حقوق کی بھی ذمے داری بنتی ہے۔
جسٹس عائشہ اے ملک نے مزید کہا کہ لائیو سٹاک کا مقصد ہی ان کے حقوق کا تحفظ ہے، ہمیں صحیح معنوں میں ایک ویلفیئر سٹیٹ بننا ہو گا، اس کے لیے موثر قانون سازی ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جانوروں کے حقوق کے لیے ایسی کانفرنسز کا انعقاد خوش آئند ہے، اس سے معاشرے میں مثبت پیغام جاتا ہے، لائیوسٹاک ہماری زندگیوں کا اہم جزو ہونا چاہیے۔