پولیو کے خاتمے کیلئے والدین تعاون کریں، ہر بچے کو حفاظتی قطرے پلانا ضروری ہے: جمال شاہ کاکڑ

پاکستان مسلم لیگ (ن)بلوچستان کے جنرل سیکرٹری اور رکن قومی اسمبلی جمال شاہ کاکڑنے کہا ہے کہ پولیو ایک خطرناک اور موذی مرض ہے جس کے مکمل خاتمے کیلئے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ 18 مئی سے شروع ہونے والی سات روزہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران اپنے پانچ سال سے کم عمر تمام بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں۔
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 25 اضلاع میں تقریبا 19 لاکھ 91 ہزار بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جو ایک قومی فریضہ اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیو وائرس بچوں کو ہمیشہ کیلئے معذور بنا سکتا ہے، اس لیے بروقت ویکسینیشن ہی اس بیماری سے تحفظ کا موثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ رواں سال بلوچستان میں پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم ماحولیاتی نمونوں میں وائرس کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خطرہ اب بھی موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ والدین کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا افواہوں پر توجہ نہ دیں اور ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔جمال شاہ کاکڑ نے کہا کہ پولیو کے خاتمے کیلئے علما کرام، اساتذہ، میڈیا، سول سوسائٹی اور سیاسی و سماجی رہنماں کو بھی آگاہی مہم میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کوئی بھی بچہ پولیو کے قطروں سے محروم نہ رہے۔انہوں نے مزید کہا کہ روٹین امیونائزیشن بچوں کو متعدد خطرناک بیماریوں سے محفوظ بناتی ہے، اس لیے والدین حفاظتی ٹیکہ جات کے عمل کو سنجیدگی سے لیں اور اپنے بچوں کے بہتر اور محفوظ مستقبل کیلئے محکمہ صحت کی ٹیموں سے تعاون کریں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.