بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی دکی، خضدار، ڈیرہ اللہ یار، خاران اور کوئٹہ میں کارروائیاں

صوبائی وزیر و چیئرمین بی ایف اے حاجی نور محمد دمڑ کی خصوصی ہدایات پر ناقص، مضر صحت اور غیر معیاری خوراک کی تیاری و فروخت کے خلاف بلوچستان فوڈ اتھارٹی صوبہ بھر میں متحرک ہے۔ اس سلسلے میں دکی، خضدار، ڈیرہ اللہ یار، خاران اور کوئٹہ میں جاری خصوصی کارروائیوں کے دوران مختلف بیکنگ یونٹس، جنرل اسٹورز، مصالحہ شاپس، نان شاپس، آئسکریم مینوفیکچرنگ یونٹس اور اسٹریٹ فوڈ پوائنٹس کا تفصیلی معائنہ کیا گیا۔
کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 48 خوراک کے مراکز پر جرمانے عائد کیے گئے جبکہ 71 فوڈ بزنس آپریٹرز کو اصلاحی نوٹسز جاری کیے گئے۔ علاوہ ازیں ناقص صفائی، غیر محفوظ خوراک اور بدترین حالات پر ایک بیکری یونٹ کوض سیل بھی کردیا گیا۔
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی انسپیکشن ٹیموں نے کوئٹہ کے مختلف علاقوں بشمول سمنگلی روڈ، شاوکشاہ روڈ، پرنس روڈ، مسجد روڈ، ٹیکسی اسٹینڈ، نواکلی، سریاب روڈ اور جتک اسٹاپ پر کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد خوراک کے مراکز کا معائنہ کیا۔

اس دوران جعلی مشروبات تیار و فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے جعلی روح افزا اور جامِ شیریں کی 295 بوتلیں ضبط کرلی گئیں جبکہ مذکورہ کاروبار کے خلاف مزید قانونی کارروائی بھی شروع کردی گئی۔کارروائیوں کے دوران متعدد مراکز سے ایکسپائرڈ اشیا خوردونوش، ممنوعہ چائنیز نمک، نان فوڈ گریڈ کلرز اور غیر معیاری اجزا بھی برآمد کیے گئے جنہیں موقع پر تلف کردیا گیا۔
فوڈ سیفٹی ٹیموں نے سڑک کنارے پکوڑے، سموسے اور دیگر کھلے کھانے فروخت کرنے والے فوڈ پوائنٹس کا بھی معائنہ کیا جہاں ناقص صفائی، آلودہ تیل کے استعمال اور حفظانِ صحت کے اصولوں کی خلاف ورزیوں پر سخت ایکشن لیا گیا۔ترجمان بی ایف اے کے مطابق بغیر لائسنس فوڈ بزنس کرنے والے متعدد یونٹس کو وارننگز جاری کرنے کے ساتھ ساتھ جرمانے بھی کیے گئے جبکہ کئی کاروباری مراکز کو فوری طور پر لائسنس کے حصول اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کی ہدایات دی گئیں۔
بلوچستان فوڈ اتھارٹی کی جانب سے واضح کیاگیا ہے کہ عوام کو محفوظ، معیاری اور صحت بخش خوراک کی فراہمی یقینی بنانا ادارے کی اولین ترجیح ہے اور عوامی صحت کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ اتھارٹی حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ غیر معیاری یا مشکوک خوراک کی فروخت سے متعلق شکایات فوری طور پر بلوچستان فوڈ اتھارٹی تک پہنچائیں تاکہ ذمہ دار عناصر کے خلاف بروقت کارروائی عمل میں لائی جاسکی

Leave A Reply

Your email address will not be published.