کوئٹہ، 18 جون: بلوچستان میں سماجی اصلاحات، گورننس میں بہتری، ڈیجیٹل بجٹ سازی اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جبکہ مختلف اعلیٰ سطحی اجلاسوں اور وفود کی ملاقاتوں میں متعدد اصلاحاتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سماجی اصلاحات اور نیٹ ورکنگ پر زور
گورنر بلوچستان جعفر خان مندوخیل نے کہا ہے کہ سماجی اصلاحات اور مؤثر نیٹ ورکنگ کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات نے تعلیم، صحت، حقوق اور سماجی انصاف کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی، ماہرین اور میڈیا سماجی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ خواتین کی شمولیت کو ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔
امن اور انصاف ترقی کی بنیاد
گورنر بلوچستان نے کہا کہ کوئی بھی معاشرہ سماجی انصاف کے بغیر پائیدار امن حاصل نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ قانون کی حکمرانی اور مساوی مواقع سے اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔
وفد کو صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں خصوصاً تعلیم، صحت اور تکنیکی تربیت پر بریفنگ دی گئی۔
بلوچستان میں ڈیجیٹل بجٹ سازی کی تاریخ ساز پیش رفت
بلوچستان میں پہلی بار بجٹ کی تیاری آٹومیشن سافٹ ویئر کے ذریعے مکمل کی گئی، جسے کابینہ اجلاس میں اہم انتظامی سنگ میل قرار دیا گیا۔
وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اس نظام سے شفافیت، رفتار اور ڈیٹا بیسڈ فیصلہ سازی کو فروغ ملا ہے۔ انہوں نے ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔
چیف سیکرٹری کی خدمات کو خراج تحسین
کابینہ اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی انتظامی خدمات اور گڈ گورننس کے فروغ کو سراہا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بجٹ سازی اور اصلاحاتی عمل میں ان کا کردار اہم رہا ہے۔ اجلاس میں مختلف محکموں کی کارکردگی کو بھی سراہا گیا۔
سیف سٹیز منصوبے پر پیش رفت
چیف سیکرٹری کی زیر صدارت اجلاس میں سیف سٹیز منصوبے کا جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ کوئٹہ، گوادر اور دیگر شہروں میں تنصیب کا کام جاری ہے۔
چیف سیکرٹری نے ہدایت کی کہ منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل کیا جائے تاکہ شہری سیکیورٹی نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔