کوئٹہ: بلوچستان کے مالی سال 2022-23 کا 612.7بلین روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش کر دیا گیا جس میں غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 367ارب روپے جبکہ مجمو عی ترقیاتی بجٹ (پی ایس ڈی پی )کاحجم 191ارب 51کروڑ روپے ہیں ۔ بجٹ خسارے کا تخمینہ 72.8 ارب روپے ہیں، بجٹ میں 2ہزار 8سو 51نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں،جاری ترقیاتی اسکیمات کی کل تعداد3367جن کے لیے133ارب روپے مختص کیے گئے ہیں نئی ترقیاتی اسکیمات کی کل تعداد3470جن کے لیے59ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، مالی سال 2022-23کے لیے لو کل کونسلز کی مجموعی گرانٹ میں 16.8ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں ترقیاتی بجٹ کے لیے 10ارب شامل ہیں،بجٹ میں سر کا ری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 15فیصد اضا فہ کا اعلان کر دیاگیا،صحت کے شعبے کے لئے 26ارب روپے غیر ترقیاتی، 12ارب روپے ترقیاتی ، تعلیم کے شعبے میںترقیاتی مد میں 9ارب جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 61ارب روپے ، امن وامان کے لئے ترقیاتی بجٹ 2ارب جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ 42ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ منگل کے روز بلو چستان اسمبلی کا بجٹ سیشن اجلاس 4گھنٹے کی تا خیر سے ڈپٹی اسپیکر سردار با بر موسیٰ خیل کی زیر صدارت تلا وت کلا م پا ک سے شروع ہوا جس کے بعد صوبائی وزیر خزانہ سردار عبدالرحمن نے ا ٓئندہ ما لی سال2022-23کا میزانیہ ایوان میں پیش کیا ۔
صوبائی و زیر خزانہ سردار عبدالرحمن کھیتران نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ بلوچستان عوامی پارٹی اور اس کی اتحادی جماعتوں کی حکومت مجموعی طور پر اب تک تین بجٹ پیش کرچکی ہے آج وہ چوتھا بجٹ اس ایوان کے سامنے پیش کر رہے ہیں لیکن مو جو دہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی قیادت میںصو با ئی حکومت کا یہ پہلا بجٹ ہے ہماری حکومت کو آٹھ ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے اورکسی بھی حکومت کی کارکردگی کو جانچنے کیلئے یہ عرصہ نہایت کم ہوتا ہے تاہم ہم نے اس مختصر مدت کے دوران بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں جس کیلئے میں اللہ تعالی کے شکرگذار ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے ان 8 ما ہ کے دوران ریکوڈک کا تاریخی معاہدہ کیابلکہ شروع دن سے بلوچستان کے نوجوانوں کیلئے روزگار کے ذرائع پیدا کرنے پر توجہ دی۔
ہم نے عوام کی عزت نفس اور ان کے احترام کو اپنی اولین ترجیح سمجھا اورصوبے میں باہمی احترام اور رواداری کو فروغ دیا ہم نے کوشش کی کہ صوبے کے اہم معاملات میں سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہوکر تمام سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیا جائے جس کاثبوت ریکوڈک کے معاملے میں صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ صوبائی اسمبلی میں ان کیمرہ بریفنگ کا انعقاد ہے جس میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے خود جاکرتمام سیاسی کو بریف کیا۔ہم نے انفرادی حیثیت میں فیصلہ کرنے کی بجائے صوبے کی نمائندہ اسمبلی اوراس ایوان کو مشاورت کا مرکز بنایا اور تمام اہم فیصلے کابینہ کی منظوری سے کئے۔
ایک دوسرے کو عزت و احترام دینا بلوچستان کی دیرینہ روایت ہے اور ہم اپنی اس روایت کے امین ہیں ہم جب تک اقتدار میں رہیں گے صوبے کی تعمیر و ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے خلوص نیت سے کام کرتے رہیں گے اللہ تعالی ہم سب کو اپنے ملک اور صوبے کی ترقی میں حصہ لینے کی توفیق عطا فرمائے ،اللہ تعالی نے صوبہ بلوچستان کی سر زمین کو بے پنا ہ قدرتی و سائل سے نوازا ہے جس کی اہمیت کو دنیا تسلیم کر تی ہے۔
ہماری آباد ی کم اور وسائل بے شمار ہیں آبادی اور وسائل کا یہ تنا سب کسی بھی علاقے کی ترقی کے لیے خوش قسمتی کی علامت ہے۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی مدبرانہ قیادت میں ہم ترقی اور خوشحالی کی مثبت سمت میں گامزن ہیں۔ معاشی اور سماجی اہداف کے حصول اور لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے ہمہ وقت اقدامات اٹھائے جار ہے ہیں۔
انہوں نے کہا ہماری حکومت قائم ہونے کے بعد ہمیں سب سے بڑا چیلنج رواں مالی سال کے صوبائی ترقیاتی پروگرام پر عملدرآمد کرانا تھا جس کیلئے وسائل نہ ہونے کے برابر تھے تاہم ہم نے اپنے غیر ترقیاتی اخراجات کو ہر ممکن حد تک کم کیا تاکہ ہم ترقیاتی سکیموں کیلئے وسائل فراہم کرسکیںپی ایس ڈی پی مالی سال 2021-22بظاہر تو ایک سالہ ترقیاتی پروگرام تھا لیکن درحقیقت پی ایس ڈی پی 2021-22 دستیاب وسائل سے کہیں زیادہ ترتیب دیاگیا تھا جس کی وجہ سے ہمیں اس پر عملدرآمد میں شدید مشکلات پیش آئیں اور اسے متوازن بنانے میں ہمیں کچھ وقت بھی لگا اور ہمیں غیر ضروری تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن اس کے باوجود اللہ کے فضل سے میں اس ایوان کو بتانا چا ہتے ہیں کہ ہم نے مالی سال 2021-22کے دوران ہم نے ترقیاتی مد میں صوبے کی تاریخ کے سب سے زیادہ 92ارب روپے کے فنڈز کا اجراء کیا اوربھر پور کوشش کی ہے کہ صوبے کے تما م اضلاع کو بلا تفریق ترقیاتی عمل میں شامل رکھا جائے۔ صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجو دصوبائی حکومت نے آنے والے مالی سال کے لیے ایک متوازن بجٹ بنایا ہے اور تمام شعبہ جات کے لیے ان کی ضروریات کے مطابق فنڈ ز مختص کیے ہیں۔
بجٹ 2022-23میں حکومت کے اقدامات میں صوبے کے دوردراز اور پسماندہ علاقوں میں یکساں بنیادی انفراسٹرکچر کی بہتری، ہنگامی صورتحال میں پیشگی اقدامات اٹھانے اور جدت پر مبنی اصلاحات متعارف کروانے، سوشل سیکٹر کو مر بو ط بنانے، صوبے کے اپنے پیداواری شعبوں سے مزید بہر ہ مند ہونے، سماجی تحفظ کے لیے اقدامات کو وسعت دینے سمیت روزگار کے نئے مواقع پید ا کرنے اور امن و امان کی مکمل بحالی شامل ہیں۔ غر ض یہ کہ معاشرے کا کوئی ایساطبقہ نہیں ہے کہ جس کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات نہ اٹھائے گئے ہوں۔ اِن اقدامات میں سرکاری ملازمین،خواتین، پنشنرز،نو جوان،ماہی گیر،مزدور سمیت ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد شامل ہیں۔
یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے بغیر کسی امتیاز کے صوبے کے تمام سیاسی اکابرین جن میں میر غوث بخش بزنجو،سردار عطا اللہ مینگل، نواب اکبر خان بگٹی، خان عبدالصمد خان، نواب خیر بخش مری، قاضی عیسیٰ ،خان آف قلات احمد یار خان اور ملک اور صوبے کے دیگر اعلیٰ پائے کے سیاستدانوں کی بلوچستان کیلئے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر ان کے نام سے منسوب منصوبے اور ادارے قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ نئی نسل کو ہماری ان قابل احترام شخصیات کی سوچ و فکر اور صوبے کیلئے ان کی خدمات کے حوالے سے آگاہی مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال2022-23کابجٹ پیش کرنے سے پہلے یہ مناسب ہو گا کہ موجودہ مالی سال 2021-22کے نظر ثانی شدہ بجٹ کا مختصر جائزہ معززایوان کے سامنے پیش کیا جائے جس کے بعد میں معززایوان کو موجودہ صوبائی حکومت کے اٹھائے گئے نئے مالی سال 2022-23 کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کر وں گا۔رواں مالی سال2021-22 کے کل بجٹ کا غیر ترقیاتی تخمینہ 347ارب روپے تھا۔ نظر ثانی شدہ بجٹ برائے سال2021-22 کا تخمینہ 332ارب روپے ہوگیا ہے۔
رواں مالی سال2021-22کے ترقیاتی اخراجات کا تخمینہ172ارب روپے تھا جو نظر ثانی شدہ تخمینہ میں کم ہو کر 93ارب روپے ہو گیا ہے جس میں 3367جاری ترقیاتی اسکیمات کے لیے 133ارب روپے جبکہ 3470نئی ترقیاتی اسکیمات کے لیے59ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔ سردار عبدالرحمن نے مالی سال 2022-23کے بجٹ کے بنیادی خدو خال پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال 2022-23کا کل بجٹ تخمینہ612.7ارب روپے ہے جس میں غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 367ارب روپے ہے جبکہ مجموعی صوبائی ترقیاتی بجٹ (PSDP) کا حجم 191.5 ارب روپے ہے۔ڈویلپمنٹ گرانٹسFederal Funded Projectsکی مد میں 28.3ارب روپے اور فارن پروجیکٹ اسسٹنس (FPA)کی مد میں 14.6ارب روپے صوبائی ترقیاتی پروگرام کے علاوہ ہیں۔جاری ترقیاتی اسکیمات کی کل تعداد3367جن کے لیے133ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ نئی ترقیاتی اسکیمات کی کی کل تعداد3470جن کے لیے59ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2022-23میں بلوچستان کے نو جوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پید ا کرنے کے لیے مختلف محکموں میں 2852سے زائد نئی آسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مو جودہ حکومت نے صوبے میں مالی بے ضابطگی کی روک تھام کے لیے بلوچستان پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ متعارف کروا کر دوسرے صوبوں سے سبقت حاصل کی جو کسی اعزاز سے کم نہیں۔ اس اہم قانون سازی سے مالی عمل اور بجٹ سازی کو صحیح سمت ملی ہے۔
واضع رہے اس ایکٹ سے و سائل کے منصفانہ استعمال کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ اس تاریخی قانون سازی سے صوبے میں جامع حکمت عملی کے تحت پبلک سروس ڈیلیوری اور غیر ترقیاتی بجٹ سمیت ترقیاتی منصوبوں میں بہتر طر ز عمل، موثر جواب دہی،وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی گئی ہے جس کی نظیر پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت مالی مسائل کا سامنا شروع دن سے کر رہی ہے مگر نا مساعد حالات کے باوجود حکومتی اور اپوزیشن کے حلقوں کو یکساں بنیادوں پر ترقیاتی منصوبوں میں وسائل کی تقسیم کو یقینی بنایا گیا ہے۔ صوبے کی بڑھتی آبادی کو سر کاری ملازمتوں اور دیگر روز گار کی فراہمی میں حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ صوبے میں پرائیویٹ اور پبلک پرائیویٹ اشتراک کو مزید مو ثر بنایا جائے تاکہ بے روزگاری کی عفریت کو کنڑ ول میں رکھا جاسکے۔ اس مد میں حکومت بلوچستان کا پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یونٹ دوسری صوبائی حکومتوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ان صوبوں کے کامیاب تجربات سے استفادہ کیا جاسکے۔
انہوں نے کہاکہ شعبہ صحت کی بہتر سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ صحت کا بہتر نظام نہ صرف لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بناتا ہے بلکہ معاشی ترقی میں بھی معاون ثابت ہو تا ہے۔ بلوچستان میں صحت کے شعبہ میں بہتری آئی ہے۔موجودہ حکومت نے صوبے میں16ڈسٹرکٹس ہیڈ کوآرٹرز ہسپتالوں کو اپ گریڈ کر کےTeaching Hospitals کا درجہ دیا ۔ یہ ہسپتال صوبے کے مختلف اضلاع میں ہیں جن میں چمن، ژوب، لورالائی، نوشکی، قلات، خضدار، حب، پنجگور، تربت، ڈیر ہ مراد جمالی،سبی، زیارت، قلعہ سیف اللہ، خاران اور گوادر شامل ہیں۔
ان ہسپتالوں سے صوبے بھر میں ایک نیٹ ورک قائم ہو گا جو ہر قسم کی ایمر جنسی کی صورت میں صحت کے خصوصی خدمات کی دستیابی کو یقینی بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال 2021-22میں ہماری حکومت نے صحت کے شعبے میں اہم اسکیمات شروع کیں جن میں ٹراما سینٹر کچلاک،پی جی ایم آئی شیخ زید،پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹر زکے لیے ہاسٹل اور چلڈرن ہسپتال کوئٹہ کی توسیع،کوئٹہ اور تربت میں ڈی ایچ کیو، آر ایچ سی اور بی ایچ یوز میں نئی اسامیاں، ایمبولنس، ادویات وغیرہ شامل ہیں۔ سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ نئے مالی سال 2022-23میں پی پی ایچ آئی (PPHI) کے لیے پنشن سپورٹ فنڈ اور آپریشنل فنڈ میں 1ارب50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔نئے مالی سال 2022-23میں صوبے بھر کے ہسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کی مد میں 6ارب 60کروڑروپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔اس طرح نئے مالی سال 2022-23میں شعبہ صحت کے لیے524 نئی اسامیاں تخلیق کی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر مالی سال 2022-23میں صحت کے شعبے کو مزید بہتر بنانے کے لیے حکومت نے غیر ترقیاتی فنڈز میں 26ارب 62کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی مد میں 12ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
صوبائی وزیر خزانہ نے ثانوی تعلیم (Secondary Education)سے متعلق بتایا کہ حکومت کی ترجیحات میں تعلیم کا فروغ سر فہرست ہے حکومت بلوچستان پورے صوبے میں معیاری تعلیم کی فراہمی کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔
اس سلسلے میں ہر سال صوبائی بجٹ کا ایک بڑا حصہ تعلیم کے شعبے کے لیے مختص ہوتا ہے۔ جس کا مقصد بلوچستان میں سب کے لیے معیاری تعلیم تک رسائی کو ممکن بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ گلوبل پارٹنر شِپ فار ایجوکشن (GPE)کی بھرتی کی گئی 1493استانیوں کو ریگولرکیا گیا۔ ہماری حکومت نے 1913ایس ایس ٹیز(SSTs)اور 46کمپیوٹرز آپریٹرز کو بھی بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے تحت تعینات کیا جوکہ اب مختلف اسکولوں میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ساتھ ہی سینکڑوں اساتذہ کی بھرتی کے لیے بلوچستان پبلک سروس کمیشن کو خط لکھا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے ایک طویل عرصے بعد سروس رولزکو نوٹیفائی کرکے1451ایس ایس ٹیز کو ہیڈ ماسٹر، ہیڈ مسٹریس اور سبجیکٹ اسپیشلسٹ کے عہدوں پر ترقی دی۔
رواں مالی سال 2021-22میں 17ایلیمنٹری کالجز کو فعال کر کے ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ ایجوکیشن (DAE)کورسز شروع کیے گئے جن میں ہزاروں طلبا تربیت حاصل کرکے ٹیچنگ کے اہل ہوں گے۔ نئے مالی سال 2022-23میں صوبے بھر میں سینکڑوں Shelterlessاسکولوں کی تعمیرکے لیے 30کروڑ سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔نئے مالی سال 2022-23میں صوبے بھر میں 103نئے پرائمری سکول کھلیں گے جبکہ 60اسکول اپ گریڈ ہوں گے جن میں مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولز شامل ہیں۔اس طرح831نئی اسامیاں پیدا ہوجائیں گی۔انہوں نے کہا کہ مجموعی طورپر مالی سال 2022-23میں شعبہ پرائمری و سیکنڈری تعلیم کی ترقیاتی مد میں 10ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 63 ارب44کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے کالجز ہائیر اینڈ ٹیکنکل ایجوکیشن (Colleges, Higher &Technical Education)کے بارے میں بتایا کہ رواں سال 2021-22میں ہماری حکومت نے 2نئے کیڈٹ کالجز ضلع آواران اور ضلع تربت میں فعال کر کے ان میں تعلیمی سلسلہ باقاعدہ شروع کروایا، ہائیر ایجوکیشن کے فروغ کے لیے صوبے کی جامعات کو سپورٹ کرنے کے لیے ان کی سالانہ گرانٹ کو 2ارب 50کروڑروپے کو جاری رکھا جائے گا۔
مالی سال 2022-23میں 2ارب 50کروڑ کی لاگت سے مکران یونیورسٹی پنجگور کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ جس کے لیے 10کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔قائداعظم کیڈٹ کالج زیارت 2ارب 2کروڑ کی لاگت سے تعمیر کی جائے گی۔جس کے لیے مالی سال 2022-23میں 30کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ہماری حکومت کوئٹہ گرلز کیڈٹ کالج کو نئے مالی سال 2022-23میں فعال کرے گی۔
نئے مالی سال 2022-23میں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے سینکڑوں خالی اسامیوں کو پر کیا جائے گا۔مجموعی طور پر مالی سال 2022-23میں اس شعبہ میں غیر ترقیاتی مد میں 12 ارب71کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ترقیاتی مد میں 9ارب روپے رکھے گئے ہیں۔زراعت کے شعبے سے متعلق صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ موسمی تغیرات سے پیدا ہونے والے اثرات جن میں پانی کی قلت، طویل خشک سالی، زیر زمین پانی کے ذخائر میں کمی، صوبے میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ نے اس شعبے پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
رواں سال 2021-22میں نیشنل پروگرام کے تحت مندرجہ ذیل اقدامات اٹھائے گئے؛878تالابوں کی پختگی، 361واٹر اسٹوریج ٹینک، 750ایکڑ زمین کی لیولنگ، 396گرین ٹنل شامل ہیں۔ہماری حکومت نے اہم فصلات کے لیے بیج مفت تقسیم کی اور ٹڈی دل جیسے خطرات سے نمٹنے کے لیے سپرے کیا گیا جس سے زمینداروں کو کروڑوں روپے کے نقصانات سے بچایا گیا۔مالی سال 2022-23میں بلڈوزر گھنٹوں کے لیے صوبے کے تما م اضلاع کے لیے 1ارب 50کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔صوبے کے مختلف اضلاع میں زرعی سولر ٹیوب ویلز کی نئی اسکیموں کے لیے 57کروڑ 60لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ مستقبل میں کسان کارڈکا اجرا زیرِ غور ہے۔
زمینداروں کو زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے ربیع اور خریف فصلات میں کھاد سبسڈی کی مد میں 610ملین روپے رکھے گئے ہیں۔مجموعی طور پر مالی سال 2022-23میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 10ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 11ارب70کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔خو راک (Food)کے شعبے کے بارے میں سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ گندم عوام کی بنیادی ضروریات میں سے اہم جزو ہے اور اس کے مہنگا ہونے سے عام آدمی براہ راست متاثر ہو تا ہے۔
کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے حکومت فوڈ سیکورٹی کے لیے خاطر خواہ ذخیرہ رکھتی ہے تاکہ کسی بھی بحرانی کیفیت سے فوری طور پر بہتر انداز میں نمٹا جا سکے۔ صوبائی کابینہ نے اس مد میں سال 2022کے لیے ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم کی خریداری کی منظوری دی۔کوئٹہ میں گندم کے ذخیرے کی بہتر نگرانی اور ترسیل کے نظام کو مستحکم بنانے کے لیے ڈیجیٹل سرویلنس کے نظام کی تنصیب کے لیے 75ملین روپے مختص و خرچ کیے گئے ہیں۔نئے مالی سال 2022-23 میں گندم کی خریداری کے لیے سود سے پاک قرضے کی فراہمی کے لیے 2ارب 90 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔
مجموعی طور پر مالی سال 2022-23میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 30کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مد میں علاوہ State Tradingکے لیے 801 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔لوکل گورنمنٹ ودیہی ترقی (Loca Government & Rural Development)کے شعبے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ مقامی اور نچلی سطح پر سروس ڈیلیوری کے لیے لو کل گورنمنٹ سسٹم کا کردار انتہائی اہم ہے۔ بلدیاتی اداروں کو مستحکم اور پائیدار بنانے کے لیے موجودہ حکومت لوکل گورنمنٹ سسٹم کو مزیدموثر بنانے کے لیے اقدامات اٹھارہی ہے۔
انہوںنے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت نے لوکل گورنمنٹ کی کاوشوں سے اس بار 29مئی 2022کو پاکستان الیکشن کمیشن کو سپورٹ کر کے بلوچستان بھر میں کامیاب اور پرامن بلدیاتی انتخابات منعقد کروائے۔ اس سلسلے میں ہمارے صوبائی خزانہ سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو4.3ارب روپے منتقل کیے گئے۔رواں سال 2021-22میں ترقیاتی فنڈ سے 73جاری اسکیمات اور 140نئی اسکیمات پر کام جاری ہے۔ مالی سال 2022-23کے لیے لو کل کونسلز کی مجموعی گرانٹ میں 16.8ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں ترقیاتی بجٹ کے لیے 10ارب شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہمجموعی طور پر مالی سال 2022-23کے ترقیاتی مد میں اس شعبے کے لیے 10ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 18ارب47کروڑروپے مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مواصلات و تعمیرات (Roads & Buildings)سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کسی بھی علاقے و عوام کی ترقی و خوشحالی کے لیے ذرائع مواصلات و تعمیرات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے جس میں مختلف آبادیوں کے درمیان زمینی فاصلہ بہت زیادہ ہے جس کو کم کرنے میں اس محکمے کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
مواصلات کی بہتری کے لیے موجودہ حکومت صوبے بھر میں شاہراہوں کا جال بچھائے گی جس کے لیے 57ارب سے زائد کی اسکیمیں متعارف کی گئی ہیں۔ آنے والے مالی سال2022-23میں ان اسکیموں کے لیے 19ارب 78کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی ہے۔صوبے میں ہائی ویز حادثات کی وجہ سے اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔ واضح رہے کہ ہائی ویز کے امور وفاقی حکومت کے ماتحت ہیں۔
ہماری حکومت کی کاوشوں سے مالی سال 2022-23میں وفاقی حکومت نے اہم شاہراہوں کے لیے11ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی ہے۔ جو کہ موجودہ حکومت کی اہم کامیابی اور عوام سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل ہے۔ گریڈرز کی خریداری کے لیے 5ارب 92کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مالی سال 2022-23کے ترقیاتی مد میں اس شعبے کے لیے 49ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 13ارب 42کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔امن و امان (Law and Order) کے بارے میں صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ جہاں صوبے کی مجموعی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے امن وامان کا قیام انتہائی اہمیت کا حامل ہے وہاں صوبے کے محل و قو ع اور وسیع وعریض رقبے کی وجہ سے امن و امان ایک بہت بڑ ا چیلنج ہے لیکن اللہ کے فضل وکرم سے ہمارے تما م قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیو ں سے صوبہ بھر میں مخدوش امن وا مان کی صورتحال کو کنٹر ول کیا گیا۔
اس حوالے سے تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار قابل تحسین ہے۔ساتھ ہی ہمارے عوام نے اداروں کے ساتھ تعاون کیا وہ بھی قابل ستائش ہے۔محفوظ سفر کے لیے بلوچستان کی شاہراہوں پر سیکورٹی کے لیے اہم قدامات اٹھائے گئے ہیں۔کوسٹل ہائی وے کو محفوظ بنانے کے لیے 40کروڑ روپے کی اسکیم کی تجویز ہے۔
لیو یز فورس میں ہماری حکومت نے 13مختلف اضلاع میں 1340لیویز اہلکار میرٹ پر تعینات کیے اور باقی اضلاع میں تعیناتی کا عمل جاری ہے۔لیویز میں CPEC Wingاور Socio-Economic Protection Unit کے لیے 2940ملازمتوں کے نئے مواقع پید ا کیے گئے۔ ڈویژنل سطح پر سول ڈیفنس کے توسط سے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔ کوئٹہ شہر میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیشِ نظر ڈسٹرکٹ جیل کو شہر سے باہر منتقل کرنے کی تجویز ہے۔
اس مقصد کی فزیبلٹی کے لیے نئے مالی سال 2022-23میں 10کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2022-23 میں اس شعبے کے لیے غیر ترقیاتی مد میں 42ارب روپے مختص جبکہ ترقیاتی مد میں 2ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ آبپاشی(Irrigation)کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پانی انسانی زندگی کا اہم جزو ہے۔ آبپاشی جیسے اہم شعبے پر ہمیں خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ایک طرف محدودپانی کے وسائل ضائع ہورہے ہیں تو دوسری طرف زیر زمین پانی کی سطح ٹیوب ویلوں کے زائد استعمال سے خطرناک حد تک نیچے گر چکی ہے۔ اس ناموافق صورت حال سے ہماری حکومت بخوبی واقف ہے جس سے نمٹنے کے لیے جدید آبپاشی کے نظام اور پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانے کے لیے ڈیمز کی تعمیر کی اشد ضرورت ہے۔
ہم اس حوالے سے صوبہ بھر میں ہر قسم کے اقدامات اٹھانے کا عزم رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال 2021-22 میں پٹ فیڈ ر اورکیر تھر کینال کی بھل صفائی کے لیے بھی 706ملین روپے کی منظور ی دی گئی اور جن سے 141ملین روپے جاری کیے گئے۔نئے مالی سال 2022-23 میں کوئٹہ وگردونواح کے علاقوں کے لیے1ارب روپے سے نئے ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈ رکھا گیا ہے جو کہ وفاقی ترقیاتی بجٹ میں شامل ڈیمز کے علاوہ ہیں۔
اریگیشن اسکیم ژوب کے لیے نئے مالی سال 2022-23میں 45کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔مالی سال 2022-23 میں اس شعبے کے لیے غیر ترقیاتی مد میں 3ارب47کروڑ روپے جبکہ ترقیاتی مد میں 29ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ آبنوشی(Public Health Engineering)کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں پانی کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت مختلف اقدامات پر عمل کر رہی ہے۔ ہماری حکومت نے رواں سال 2021-22میں 987ملین روپے شادی کور،آکڑ ہ کو رڈیمز کی اپ گریڈ یشن کی منظوری دی ہے۔پیرکوہ میں وبا پھیلنے کے سبب محکمہ نے اقدامات اٹھائے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان نے پیرکوہ واٹر سپلائی اسکیم کی منظوری دی جس کی لاگت 441ملین ہے۔ مالی سال 2022-23میں ٹان واٹر سپلائی اسکیم فیزIIIمیں سولرائزیشن کے لیے 1ارب روپے کی اسکیم متعارف کی گئی ہے۔مالی سال 2022-23میں گوادر شہر میں فراہمی آب کے لیے واٹر سپلائی کے لیے 38کروڑ روپے کی اسکیم رکھی گئی ہے۔ مالی سال 2022-23میں آب نو شی کے لیے ترقیاتی مد میں 23ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں بشمول واسا8ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ سائنس اور آئی ٹی (Science & IT)سے متعلق انہوںنے کہا کہ سائنس، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور آئی سی ٹی پوری دنیا میں قوموں کی ترقی کے علامات سمجھی جاتی ہیں۔
اس شعبے نے دورِ حاضر کے تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے آئی ٹی کی ضرورت کے پیشِ نظرکوئٹہ میں سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پارک کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔ بعدازاں گوادر اور صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں بھی قائم کیا جائے گا۔ CMDUکو ایک باقاعدہ یونٹ کے طور پر سائنس اور آئی ٹی محکمہ کے ماتحت لانے کی تجویز زیرِغور ہے۔
مالی سال 2022-23اس شعبے کے ترقیاتی مد میں 2.5ارب روپے اور غیر قیاتی مد میں 53کروڑ90لاکھ روپے مختص کیے ہیں۔ محکمہ اطلاعات (Infomation)کے بارے میں انہوں نے کہا کہ محکمہ اطلاعات، حکومت اور پریس کے مابین خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے میں ہمیشہ سے کلیدی کر دار رہا ہے۔ پرنٹ،الیکٹر انک اور سو شل میڈیا کے ذریعے حکومتی اقدامات، پالیسوں کو اجا گر کرنے کے لیے محکمہ کی کا وشیں قابل تحسین ہیں، خا ص طور سے بروقت معلومات تک رسائی اور عوام میں شعور و آگائی پیدا کرنے کے لیے محکمہ کے افسران و اہلکاران فرنٹ لائن پر دن رات کا م کر رہے ہیں۔
مالی سال 2022-23اس شعبے کے ترقیاتی مد میں 16کروڑ روپے اور غیر قیاتی مد میں 708ملین روپے مختص کیے ہیں۔ معد نیات و معدنی وسائل(Mines and Minerals)کے شعبے کے بارے میںتفصیلات بتاتے ہوئے سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ اللہ تعالی نے ہمارے صوبے کو معدنیات سے مالامال کیا ہے۔ریکوڈک کا تاریخی معاہدہ ہماری حکومت نے خوش اسلوبی سے طے کروایا جس کے تحت بلوچستان کو ریکوڈک منصوبے کا 25%شیئربراہ راست ملے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ ہماری صوبے کی لوگوں کو 8000نوکریاں بھی ملیں گی اور رائلٹی کی مد میں صوبے کو خطیر رقم ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال 2021-22میں معدنیا ت کی مد میں 190ملین روپے قومی خزانے میں جمع کیے گئے۔ مختلف معدنیات کے لیے 96لائسنزدیے گئے تاکہ معدنی وسائل کو نکالا جاسکے۔ اور روزگار کے مواقع بڑھاجاسکیں۔
اس کے ساتھ 198غیر قانونی لیز بھی کینسل کردئیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں میٹل پارک کے نام سے ایک نئے پراجیکٹ کا آغاز کر دیا گیا ہے جو بلو چستان کی قیمتی دھات کی ویلیویشن کا ذریعہ بن جائے گا۔ جس سے حکومت کی آمدن اور لوگوں کے روز گار میں بھی اضافہ ہو گا۔
بلوچستان میں معدنی وسائل کی تلاش کے لیے ایک نئی کمپنی بلوچستان منرل ایکسپلور یشن کے نام سے عمل میں لائی گئی جوکہ صوبے میں سر مایہ کاری کے فروغ میں اہم کر دار اداکر ے گی۔ جس سے مائنراونرز کو سہولیات مل جائیں گی۔ اس کے ساتھ مچھ، مسلم باغ، ہرنائی اور گوادر میں علاقائی دفاتر بھی قائم کیے گئے ہیں۔ رائلٹی اور فنانس کے معاملات کو جدید خطوط پر استوار کے لیے ڈیجیٹلائزیشن آف رائلٹی رِجیم کے نام سے پروجیکٹ شروع کر چکا ہے۔مائنز ریسکیو اینڈ ٹریننگ سینٹر کا قیام عمل میں لایا گیا۔ سورینج، مچھ، شاہرگ، مسلم باغ اور کوئٹہ سمیت دیگر شہروں میں سینٹرز قائم کیے جائیں گے۔کان کنی سے وابستہ محنت کشوں اور ان کے بچوں کو تعلیمی سہولیات کی فراہمی کے لیے 30سے زائد اسکول مختلف مائنز علاقوں میں کام کر رہے ہیں۔
نیز طبی سہولیات کے لیے ایک ہسپتال،ایک بنیادی مرکز صحت اور 25شفا خانے کام کر رہے ہیں۔ مالی سال 2022-23میں ان کی اپ گریڈیشن زیرغور ہے۔ مالی سال 2022-23میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 74کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 3ارب20کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ماہی گیری و ساحلی ترقی(Fisheries & Coastal Development)کے شعبے سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا اللہ تعالی نے بلوچستان کو دنیا کی بہترین ساحلی پٹی سے نوازا ہے۔
جس میں کوسٹل ٹورازم کے ساتھ ساتھ ماہی گیری کے بے پنا ہ مواقع موجو دہیں۔ اس حوالے سے حکومت بلوچستان جامع حکمت عملی کے تحت پوری ساحلی پٹی کی بین الاقوامی معیار کے عین مطابق ماسٹر پلاننگ کر ارہی ہے۔
پسنی فِش ہار بر کی بحالی کے لیے لینڈنگ جیٹیز(Landing Jetties)اور بریک وا ٹر کی ڈیزائیننگ کے لیے ایک معروف بین الاقومی ادارے سے فزییلٹی رپورٹ تیا ر کی گئی۔ انشا اللہ اس پر جلد کام شروع ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ مچھلیوں کی غیر قانونی ٹرالنگ کی روک تھام کے لیے جہازوں کی نگرانی بھی بڑھا دی گئی۔ رواں سال 2021-22میں سیا حوں کے تحفظ کے لیے215لائف گارڈ کی پوسٹیں تخلیق کی گئیں جن پر تعیناتیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ غریب مچھیروں کی سہولت کے لیے کشتیوں کی مرمت کا ورکشاپ قائم کر دیا گیا۔ ساتھ ساتھ اوتھل میں ڈائریکٹریٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔
مالی سال 2022-23میں اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 2ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 1ارب 24کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ توانائی (Energy) کے شعبے سے متعلق صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت بلوچستان کو سب سے بڑا درپیش چیلنج پھیلی ہوئی آباد ی کی وجہ سے دوردراز کے علاقوں کو قومی گرڈ سے منسلک کر نا ہے۔
اس صورتحال میں بہترین ذریعہ شمسی توانائی ہے جس کے ذریعے صوبے کے دورافتادہ علاقوں کو متبادل توانائی کی سہولت سے آراستہ کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت بلوچستان SolarاورWindانرجی کی بڑے پیمانے پر سامان کی تیاری کے سلسلے میں سرما یہ کاروں کے لیے صوبائی ٹیکسز میں چھوٹ دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ نہ صرف بجلی کے مسئلے پر قابو پایا جاسکے بلکہ روزگار کے مواقع بھی پید اہوں۔ 4ارب کیسکو کو ٹیوب ویل سبسڈی کے لیے جبکہ 2ارب روپے زرعی ٹیوب ویلز کی سولرائیزیشن کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر مالی سال 2022-23ترقیاتی مد میں ا س شعبے کے لیے6 ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 6.8ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ماحول و ماحولیاتی تبدیلی (Environment & Climate Change) کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کو ماحولیاتی تغیرات سے ہونے والے شدید تقصانات کا سامنا کر پڑ رہا ہے۔ جس میں خشک سالی سرِ فہرست ہے۔محکمہ ماحولیات کے ماتحت Environmental Protection Agencyصوبہ بھر میں ماحولیاتی معاملات کے حوالے سے صنعتی و پیداوری شعبوں کو ماحولیاتی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھارہاہے۔ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز،سول سو سائٹی اور میڈیا کے ساتھ مل کرکارروائی کررہا ہے۔ اس کے علاوہ مفاد ِعا مہ کی آگہی کے لیے مضمون نویسی، سیمینار وغیر ہ منعقدکیے گئے۔Integrated Develomentپروگرام کے لیے 10کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے مختلف اسٹیل میلز میں خشک اور گیلے اسکر یبرز کی تنصیف کو یقینی بنایا گیا اس کے ساتھ ساتھ اس محکمے نے 22ملین روپے کا ریونیو صوبائی خزانے میں جمع کیا۔لسبیلہ انڈ سٹریز کے 40%حصے کو بلوچستان انوارمینٹل پروٹیکشن ایکٹ2012کے تحت قانونی بنایا گیا ہے۔مالی سال 2022-23اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 29کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 490ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
امورِ حیوانات (Live Stock)کے شعبے سے متعلق انہوںنے کہا کہکہ بلوچستان کی زیادہ تر آبادی کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ لائیواسٹاک سے منسلک ہے۔ صوبائی معیشت میں لائیوسٹاک کا زراعت سیکٹر میں تقریبا48%فیصد حصہ ہے جبکہ جی ڈی پی میں زراعت سیکٹر کا 52%فیصد ہے۔ موجودہ حکومت نے پہلی مرتبہ بلوچستان لائیواسٹاک پالیسی کا اجرا کیا جو کہ آئندہ دس سال کے لیے بنائی گئی ہے جس پر عمل در آمد جاری ہے۔ ا س پالیسی پر عملدرآمد سے شعبہ لائیواسٹاک کو خا طر خواہ فروغ ملے گا۔ اس سال 13ملین جانوروں کا علاج کیا گیا۔اور 12ملین سے زائد جانوروں کی ویکسینشن ہوئی۔ حکومت بلوچستان نے موبائل ویٹرنری ایڈ پروجیکٹ کے ذریعے 33موبائل ویٹرنری ایمبولنس مہیا کی ہیں۔
مالی سال 2022-23اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 1.5 بلین روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 5ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ محنت و افرادی قوت (Labour & Manpower) کے بارے میںتفصیلات بتاتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں آبادی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
ہمارے صوبے میں پندرہ سے چوبیس سال کی عمر کے نو جوانوں کی تعد اد بیس لاکھ سے زائد ہے اور نو جوانوں کو روزگار فراہم کرنا بلاشبہ ہم سب کے لیے اہم چیلنج ہے۔ نو جوان نسل کو مختلف ہنر کے شعبوں میں تربیت دے کر انہیں کا ر آمد بنانا اور ان کی سماجی و معاشی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا حکومت کی ذمہ دار یوں میں شامل ہے تاکہ و ہ سماج میں ایک بہتر مقام حاصل کر سکیں اور منفی رجحانات کی طرف مائل نہ ہوں۔ ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر بمقام ضلع قلعہ سیف اللہ،خالق آباد اور خاران پر ترقیاتی کام آخری مراحل میں ہے جو کہ رواں سال میں فعال کردیے جائیں گے اور ٹیکنیکل سینٹر ضلع ہر نائی میں ترقیاتی کام کا آغاز جلد شروع کر دیا جائے گا۔ محکمہ محنت و افرادی قوت نے صوبہ بلوچستان کے مزدوروں کی فلاح و بہبود کے لیے بلوچستان صوبائی اسمبلی سے 9قوانین پاس کروائے ہیں جو کہ صوبے بھر میں نا فذ العمل ہیں اور مزید 3 قوانین پہ کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ محنت و افرادی قوت نے سال 2021-22میں Death Compensation Grantکی مد میں مزدوروں کے لواحقین میں 348.950ملین روپے تقسیم کیے۔ Marriage Grantکی مد میں 126.926ملین روپے تقسیم کیے اور مزدوروں کے بچوں کی تعلیم کے لیےScholarship Grantکی مد میں 39.173ملین روپے تقسیم کیے۔مالی سال 2022-23اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 33کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 2.5بلین روپے مختص کیے ہیں۔شعبہ صنعت وحرفت (Industries & Comerece)سے متعلق انہوں نے کہا کہصنعتی ترقی ملکی معیشت میں ریڑ ھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ محکمہ صنعتی ترقی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔
بلوچستان اسپیشل اکنامک زون اینڈ انڈسٹرئل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اینڈ منیجمنٹ کمپنی کو باقاعدہ فعال کیا گیا۔ اس مد میں 20کروڑ روپے جاری کیے کئے۔صوبائی حکومت سر حدی علاقوں میں لوگوں کے روزگا ر کو یقینی بنانے کے لیے 13کمر شل بارڈر مارکیٹس کے قیام کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ پائلٹ پروجیکٹ میں گبد(گوادر)،مند(کیچ)اور چیدگی (پنجگور)شامل ہیں۔ ضلع چمن،حب اور گوادر میں سینکڑوں ایکڑزمینوں پر خصوصی اقتصادی زون کے قیام کا عمل جاری ہے۔ محکمے نے رواں سال ٹارگٹ سے بڑھ کر 5کروڑ 80لاکھ روپے کا ریونیو دیا۔
مالی سال 2022-23اس شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں ایک ارب روپے اور غیر ترقیاتی مد میں 2ارب15کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شعبہ سوشل ویلفیئر (Social Welfare)سے متعلق انہوں نے کہا کہ رواں سال 2021-22میں مختلف اسکیمات کے لیے 186ارب روپے ریلیزہوگئے۔ جن میں معذوروں کے لیے ویل چیئرز،ٹرائی موٹر سائیکلز،منشیات کے عاد ی افراد کے لیے مختلف ضلعوں پنجگور،لورالائی،پشین،قلعہ عبداللہ اور لسبیلہ میں کمپلیکس،دارلامان میں خواتین کے لیے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹراور مسحق افراد میں 3000دستکاری مشینوں کی تقسیم اور خصوصی بچوں کے لیے گوادر و پسنی میں سکول کا قیام شامل ہیں۔نئے مالی سال 2022-23میںمعذور افراد کے لئے اسپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کی جائے گی جس کے لئے 10کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔
نئے مالی سال 2022-23میں ذہنی معذور افراد کی بحالی کے لئے کمپلیلس تعمیر کی جائے گی جس کے لئے 10کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ انہوںنے کھیل و امور نوجوانات کے بارے میںبتایا کہ بلوچستان کی مجموعی آبادی کا 60فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے ان کی فلاح و بہبود اور انہیں مثبت سرگرمیوں کی جانب راغب کرنے کے لئے حکومت بلوچستان مختلف اقدامات اٹھارہی ہے ۔ مالی سال 2022-23میںکھیل کے فروغ اور نوجوانوں کی بہبود کے لئے 30کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ خواتین کے لئے کھیل کا مرکز قائم کیا جائے گا جس کے لئے نئے مالی سال 2022-23میں 5کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ امور نوجوانان بلوچستان پالیسی اور یوتھ ایکسچینج پروگرام بلوچستان پر کام جاری ہے ۔ شعبہ جنگلات و جنگلی حیات کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے بلوچستان کو جنگلات و جنگی حیات جیسے نعمتوں سے نوازا ہے محکمہ نے ضلع شیرانی کے جنگلات میں لگی آگ پر بروقت قابو پاکر قیمتی جنگلات اور وہاں کے عوام کو بڑے نقصان سے بچایا ۔ سروس ڈیلوری اور سٹاف کی کیپسیٹی بلڈنگ اور ٹریننگ کے لئے تاریخی میں پہلی بار فوریسٹ سکول کا قیام عمل مں لایا گیا ہے ۔
مون سون اور سپرنگ شجرکاری مہم میں 35لاکھ درخت لگائے گئے ، محکمے نے اس سال 58ملین کا ریونیو دیا ۔ انہوں نے شعبہ ثقافت ، سیاحت و آثار قدیمہ کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت نے سیاحت و ثقافت کے فروغ کے لئے انتہائی اہم اقدامات اٹھائے ہیں جن میں آرٹسٹ ویلفیئر فنڈ کا قیام ، ایکسلینس ایوارڈ و علامہ اقبال بک ایوارڈ ، ہوٹل اینڈ ریسٹورنٹ رولز 2022ودیگر شامل ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ آثار قدیمہ کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں ، ڈویژنل سطح پر ریکارڈ روم بنائے گئے ہیں جن کو ڈیجیٹلائزڈ کرنے کا کام جاری ہے ۔ صوبائی وزیر خزانہ نے ایکسائز ٹیکسیشن اینڈ نارکوٹکس کے شعبے سے متعلق بتایا کہ صوبے میںمنشیات کی روک تھام اور ٹیکسیشن کے نظام کو نافذ کرنے کے لئے متعلقہ محکمے کی گراں قدر خدمات ہیں ، اربن پراپرٹی ٹیکس جو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے آن لائن سسٹم متعارف کرائی جارہی ہے جس کے لئے 13کروڑ 80لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ رواں سال 2022-21میں متعلقہ محکمہ نے 1877ملین روپے کا ٹکس جمع کیا ۔ سردار عبدالرحمن کھیتران نے شعبہ ترقی نسواں سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ محکمہ مقصد صنفی مساوات اور خواتین کو امپاور کرنا اور ان کے حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن اقدامات اٹھاناہے ۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال خواتین گریجویٹس کے لئے 100ملین روپے کی لاگت سے انٹرن شپ پروگرام کا اجراء کیا گیا ہے ، مالی سال 2022-23میں ترقی نسواں کے لئے ڈے کیئر سینٹرز ، وومن بازار اینڈ انکوبیشن سینٹرز و غیر شامل ہیں، صوبائی کابینہ نے بلوچستان وومن امپاورمنٹ اینڈ جینڈر پارلیسی 2020-24کی منظوری دی ہے ۔ خواتین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کے لئے ہماری حکومت وومن ڈویلپمنٹ سیکٹر پلان پر کام کررہی ہے جس کی کابینہ سے عنقریب منظوری لی جائے گی ۔ صوبائی وزیر خزانہ نے اقلیتی امور کے شعبے سے متعلق بتایا کہ صوبائی حکومت ہمیشہ سے اقلیتوں کی فلاح وبہبود کے لئے مختلف اٹھاتی رہی ہے اس سلسلے میں حکومت نے اقلیتی امور کا محکمہ عمل میں لایا ۔
ہماری حکومت نے 50ملین روپے کی لاگت سے اقلیتی انڈومنٹ فنڈ کا اجراء کیا ، نئے مالی سال کے دوران Minoritiesمحکمے کا ڈائریکٹیوریٹ تعمیر کیا جائے گا ۔ شعبہ محصولات ( Revenue) کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کے محصولات میں بہتری آنے کی بدولت صوبے کو NFCکی مد میں ملنے والے ٹیکس محصولات میں نئے سال 2022-23میں 60ارب روپے کا اضافہ ہوگا ، البتہ صوبے ی موجودہ پیداوار قدرتی وسائل میں کمی آنے کی وجہ رائلٹی کی مد میں ملنے والے پیسوں میں بتدریج کمی ہورہی ہے جس کا تخمینہ اگلے سال میں 15ارب روپے لگایا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے کو 1991سے پہلے گیس ڈویلپمنٹ سرچارج کی مد میں بقایا 120ارب روپے جو کہ 10ارب روپے سالانہ کے حساب سے ملنے تھے جون 2022میںختم ہوجائیںگے جس کا صوبے کی سالانہ آمدنی پر براہ راست اثر پڑے گا ۔ انہوںنے کہا کہ 2015کے بیشتر سوئی لیز کے معاہدے کے خاتمے کے بعد پیداوار جاری ہونے کے باوجود نیا معاہدہ تاحال طے نہیں ہوسکا جس سے رائلٹی اور ایکسٹنشن بونس کی مد میں سال 2022-23میںکم از کم 50ارب روپے وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے کے نظام کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے اور ذرائع آمدن میں اضافے لئے موجودہ حکومت نے فنانس کے ذریعے ٹیکس کے قوانین میںاصلاحات متعارف کرائی ہے ۔
صوبائی محصولات میںبہتری کے حوالے سے بلوچستان نان ٹیکس ریونیو موبلائزیشن سٹریٹیجی 2022پر کام ہورہا ہے جس کا مسودہ کابینہ کی منظوری کے لئے بہت جلد پیش کیا جائے گا ۔ انہوںنے کہا کہ بلوچستان سیلز ٹیکس آن سروسز اور دیگر ٹیکسز کی وصولی کے لئے محکمہ خزانہ حکومت بلوچستان ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور One Linkسے معاہدہ طے پاگیا ہے جس میں باقی محکموں کو بھی شامل کیا جارہا ہے جس سے نہ صرف دہندگان کو آسانی ہوگی بلکہ ٹیکس کی وصولی کے نظام میں شفافیت اور بہتری آئے گی ۔
انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال 2022-23کے بجٹ میںمختلف نوعیت کے اہم فلاحی اقدامات اٹھائے جارہے ہیں سرکاری ملازمین کو ریلیف دینے کیلئے حکومت کی جانب سے صوبائی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 15فیصد اضافہ 2017کی بنیادی تنخواہوں کے مطابق ،پنشن میں 15فیصد اضافہ اور ایڈہاک الائونسز وفاقی حکومت کے طرز پر ضم کرنے کااعلان کرتی ہے ،مزدوروں کی کم سے کم اجرت 25ہزار روپے مقرر کی جاتی ہے حکومت مختلف محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں تفریق کم کرنے کیلئے 15فیصد ڈی آر اے دے چکی ہے محکمہ صحت، پیرامیڈیکس اور ٹیکنیکل اسٹاف کاہیلتھ پروفیشنل الائونس اور ہیلتھ رسک الائونس میں 100فیصد اضافہ کیا، شیخ زید ہسپتال میں تعینات ڈاکٹرز کیلئے ایک بنیادی تنخواہ بطور اعزازیہ دی گئی ،سرکاری ملازمین کی بڑھتی پنشن اور حکومت کے مالی مشکلات کے حل کیلئے قائم بلوچستان پنشن فنڈ میں 4ارب روپے مختص کئے گئے ہیں ،ہماری حکومت جلد وزیراعلیٰ بلوچستان شکایت مینجمنٹ سیل متعارف کرے گی ہماری حکومت ہونہار طلباء کیلئے ایک ارب روپے کی لاگت سے لیپ ٹاپ اسکیم متعارف کرارہی ہے مالی سال 2022-23میں مذکورہ اسکیم کیلئے 50کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ،گریجویٹ طلباء کیلئے انٹرشپ پروگرام کا جلد آغاز ہوگا نئے مالی سال 2022-23 میں اس مقصد کیلئے 20کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں سیف سٹی پروجیکٹ کی بدولت کوئٹہ میں امن وامان کی مخدوش صورتحال بہتر ہوئی ہے اور کوئٹہ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کے تحت بے شمار ترقیاتی کام ہوئے ہیں مال سال 2022-23ء میں مختلف اضلاع میں اسپورٹس کمپلیکسز کی تعمیر مکمل کی جائے گی ،نئے مالی سال 2022-23میں بے نظیر ڈیجیٹل لائبریری ،غوث بخش بزنجو لائبریری اور باچاخان لائبریری کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔
کم عمر قیدیوں کی فلاح کیلئے بورسٹل انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایاجائے گا جس کیلئے 10کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں ،فوڈ سیکورٹی کے مالی مسائل پر قابو پانے کیلئے مزید ایک ارب 75کروڑ روپے مختص کئے گئے جس سے فوڈ سیکورٹی ریوالونگ فنڈ کا کل حجم3ارب 75کروڑ روپے ہوجائے گاصوبے کی گندم کی سالانہ ضروریات کو یقینی بنایاجائے گاصوبے میں 8اگست 2016ء میں شعبہ وکالت میں پیدا ہونے والی خلائکو پر کرنے کیلئے بلوچستان کے وکلاء کو بیرون ملک اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے پہلے سے قائم بلوچستان لائرز ویلفیئر انڈوومنٹ کیلئے 250ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔
ہماری حکومت نے پی ایس ڈی پی آٹومیشن اور پی پی پی ایکٹ متعارف کرایاہے اس کے ساتھ ٹیکس اور نان ٹیکس موبلائزیشن پر بھی کام کیاہے نئے مالی سال میں ہماری حکومت نے صوبے میںکوئی نیا ٹیکس لاگو نہیںکیاہے جس سے صرف مہنگائی پر قابو پرپایاجاسکے گا بلکہ اس کو کم کیاجاسکے گا۔
انہوںنے کہا کہ مالی سال 2022-23بجٹ کے تخمینے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ2022-23اجراجات کے بجٹ کا کل حجم 612.7بلین روپے ہے جبکہ آمدن کا کل تخمینہ528.6بلین روپے ہے۔ اس طرح سال 2022-23 کے لیے بجٹ خسارہ کا تخمینہ72.8بلین روپے ہوگا جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔بجٹ 2022-23تخمینہ آمدن 528.6بلین روپے میں وفاقی ٹرانسفرز 370.33، صوبے کی اپنی محصولات48.37، سوئی گیس لیز ایکسٹنشن بونس55.00، فارن فنڈ زپر اجیکٹس اسسٹنس14.36، کیپٹل محصولات بشمولState Trading 12.21، وفاقی ترقیاتی گرانٹ 28.27، کل آمدن 528.58، Cash Carry Over 11.36، مجموعی آمدن 539.94ہے ۔ انہوں نے بجٹ 2022-23 کے تخمینہ کے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اخراجات ِجاریہ366.72، فارن فنڈ ڈپراجیکٹس اسسٹنس( FPA) ,14.36وفاقی ترقیاتی پر جیکٹس(Outside PSDP ) 39.67،صوبائی پی ایس ڈی پی1 191.5، ٹوٹل اخراجات 612.7اورمجموعی خسارہ72.8روپے ہیں ۔ آخر میں انہوںنے ان تمام خصوصا فنانس، پی اینڈ ڈی اورگورنمنٹ پرنٹنگ پریس کا اور ساتھ ہی میں وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو ودیگر کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بجٹ کی تیاری میں معاونت کی ۔