اسلام آباد / لاہور: وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ احتجاجی شرکا اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کریں گے۔
اسلام آباد میں پریس بریفنگ کے دوران شیخ رشید نے کہا کہ ٹی ایل پی سے تفصیلی مذاکرات ہوئے، وزیراعظم کو تمام صورتحال سے آگاہ کرتا رہا، سعد رضوی سے ون آن ون ملاقات ہوئی ہے، مذاکرات میں فرانسیی سفیر کے حوالے سے کھل کر بات ہوئی، اس وقت پاکستان میں فرانس کا سفیر نہیں، فرانس کے معاملے کو اسمبلی میں لے کر جائیں گے، ان کا اعتراض درست تھا کہ چھ ماہ سے ان کے معاملے کو نہیں دیکھا جا سکا، منگل یا بدھ تک ان کے کیسز واپس لیے جائیں گے، احتجاجی قافلے نے منگل تک مریدکے میں پڑاؤ کرنا ہے، انتظامیہ کو کینٹینر ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔
حالات بہتر ہوجائیں گے
ہر سال پی ڈی ایم نومبر اور دسمبر کو مشقیں کرتی ہیں
شیخ رشید نے کہا کہ پاکستان ایٹمی ریاست ہے اس پر عالمی دباؤ ہے، ایف اے ٹی ایف میں بھی پاکستان کا ایک پوائنٹ رہتا ہے، ہمیں عالمی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس سے عام آدمی متاثر ہورہا ہے، احتجاج سیاسی پارٹیوں کا حق ہے، ہر سال پی ڈی ایم نومبر اور دسمبر کو مشقیں کرتی ہیں، جنوری تک سکون ہوجاتا ہے، ہمیں سوا 3 سال ہوگئے ہیں اور ہم اپنی مدت پوری کریں گے، پی ٹی آئی آئندہ الیکشن بجٹ دے گی، میری ہمدردی عمران خان کے ساتھ ہے ، ان کے ساتھ آیا ہو ان ہی کے ساتھ جاؤں گا۔
لیفٹیننٹ جنرل فیض ہی اس وقت ڈی جی آئی ایس آئی ہیں
ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹی فکیشن کے حوالے سے شیخ رشید احمد نے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ گزشتہ جمعے تک نئے ڈی جی آئی ایس آئی کا نوٹی فکیشن ہوجائے گا لیکن ایسا نہیں ہوسکا، بلا شبہ اس وقت لیفٹیننٹ جنرل فیض ہی ڈی جی آئی ایس آئی ہیں، بحیثیت وزیر داخلہ مجھ سے ایسے ہی سوال پوچھے جائیں جو میرے دائرہ کار میں ہوں، اس حوالے سے وزیر اطلاعات سے پوچھا جائے۔
معاملات کافی حد تک طے پا چکے
پریس بریفنگ سے قبل شیخ رشید نے کہا تھا کہ کالعدم تنظیم تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے اور معاملات کافی حد تک طے پا چکے ہیں، ٹی ایل پی کے زیر حراست افراد کو چھوڑ دیا جائے گا اور ماضی میں کیے گئے معاہدے کے تحت فرانسیسی سفارتکار کو بے دخل کرنے کا معاملہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔