روس کی یوکرین پر دوسرے روز بھی بمباری‘ پہلے روز 137 ہلاکتوں کی تصدیق

کیف میں کروز اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے ‘کیف کے رہائشی علاقے میں میزائل داغنے کی اطلاعات
روس سے لڑنے کیلئے یوکرین کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے لیکن ہم بھرپور مقابلہ کریں گے‘یورپ کے 27 رہنماؤں سے پوچھا یوکرین نیٹو میں شامل ہو گا؟‘ ہر کوئی ڈرتا اور جواب نہیں دیتا ‘ہم ڈرنے والے نہیں ہیں‘ ‘صدر زیلنسکی
کیف/ماسکوروس کی یوکرین پر دوسرے روز بھی بمباری جاری ہے جبکہ پہلے روز ہونے والی لڑائی میں 137 ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت جمعہ کی صبح دھماکوں کی آواز سنی گئی۔مشیر یوکرین حکومت نے بھی دوسرے روز روسی حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دارالحکومت کیف میں کروز اور بیلسٹک میزائلوں سے حملے جاری ہیں۔یوکرینی فوج کا کہنا ہے کہ روس نے دارالحکومت کیف کے رہائشی علاقے میں میزائل داغے جبکہ یوکرین کے ائیر ڈیفنس نظام نے روسی فوج کے 2 مہلک حملوں کو تباہ کر دیا۔کیف کے میئرکا اس حوالے سے بتانا ہے کہ روسی میزائل کا ملبہ رہائشی عمارت پر گرا جس سے 3 افراد زخمی ہوئے، میزائل کا ملبہ گھر پر گرنے سے آگ لگ گئی ہے۔ادھر یوکرینی حکام نے کیف میں روسی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی طیارہ دارالحکومت کیف کے دارنتسکی ضلع پر مار گرایا گیا ہے۔دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ روسی فوج یوکرین کے دارالحکومت کیف سے 20 میل کے فاصلے تک پہنچ گئی ہے۔ادھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ روس کے ساتھ پہلے روز کی لڑائی میں 137 افراد ہلاک ہوئے۔ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ یورپ کے 27 رہنماؤں سے پوچھا یوکرین نیٹو میں شامل ہو گا؟ ہر کوئی ڈرتا ہے اور جواب نہیں دیتا لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔صدر زیلنسکی کا کہنا تھا کہ روس سے لڑنے کے لیے یوکرین کو تنہا چھوڑ دیا گیا ہے لیکن ہم بھرپور مقابلہ کریں گے۔یوکرینی وزیر دفاع کا کہنا ہے کہ روسی فوج کے قبضے سے کیف ائیرپورٹ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق روس نے یوکرین کے چرنوبیل نیوکلیئر پلانٹ پر قبضہ کرلیا ہے۔اس کے علاوہ فرانس اور روس کے صدور میں ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے یوکرین کی تازہ صورتحال پربات چیت کی۔فرانسیسی صدرنے روس سے یوکرین میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.