نشے کے مریض جب اپنے اہل خانہ کی امیدوں کے ساتھ بحالی مراکز میں داخل ہوتے ہیں تو وہ یہ سوچتے ہیں کہ یہاں انہیں علاج، تحفظ اور نئی زندگی ملے گی۔ لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ منشیات ہسپتال ویلفیئر آرگنائزیشن پشاور اور اس کے برانچز جو افغان کالونی، نشتر آباد اور کسٹم چوک میں قائم ہیں، دراصل بحالی مراکز نہیں بلکہ اذیت خانے اور انسانی جانوں کے قبرستان بن چکے ہیں۔
ان مراکز میں مریضوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ انسانیت کے نام پر بدنما داغ ہے۔ مریضوں کو علاج دینے کے بجائے قید کر کے رکھا جاتا ہے، انہیں بدترین جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور ان کی زندگیاں مزید تباہ کر دی جاتی ہیں۔ تربیت یافتہ عملہ، طبی سہولیات اور کسی بھی قسم
کا معیاری علاج یہاں ناپید ہے۔ کئی مریض اس تشدد اور غفلت کے نتیجے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ یہ ظلم ناقابل معافی ہے۔
منشیات ہسپتال ویلفیئر آرگنائزیشن اور اس کے مختلف برانچز نے فلاحی ادارے کی آڑ میں دراصل ایک خونی مافیا تشکیل دیا ہوا ہے جو معصوم مریضوں کے ورثا کی مجبوریوں کو لوٹنے اور انسانی جانوں سے کھیلنے میں مصروف ہے۔ بھاری فیسیں بٹورنا اور چندوں کے نام پر پیسہ اکٹھا کرنا اس کا واحد مقصد ہے۔ یہاں بحالی اور علاج کے نام پر صرف ظلم، دھوکہ اور موت بانٹی جا رہی ہے۔
یہ صورتحال کسی بھی مہذب معاشرے کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ اگر حکومت وقت نے اب بھی خاموشی اختیار کی تو یہ سنگین ریاستی جرم تصور ہوگا۔ لہٰذا حکومت کے لیے واحد راستہ یہ ہے کہ:
1. منشیات ہسپتال ویلفیئر آرگنائزیشن پشاور اور اس کے تمام برانچز (افغان کالونی، نشتر آباد اور کسٹم چوک) کو فوری طور پر بند کر دیا جائے۔
2. اس ادارے کے لائسنس کو مستقل طور پر منسوخ کیا جائے۔
3. ذمہ داران کو سخت ترین قانونی سزائیں دی جائیں تاکہ آئندہ کوئی شخص مریضوں کی مجبوریوں کو کاروبار اور ظلم کا ذریعہ نہ بنا سکے۔
4. متاثرہ مریضوں اور ان کے خاندانوں کو انصاف اور مالی و قانونی معاونت فراہم کی جائے۔
5. ملک بھر میں ایسے جعلی، غیر قانونی اور غیر انسانی مراکز کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے۔
نشے کے مریض علاج اور محبت کے طلبگار ہیں، لیکن یہ مراکز انہیں موت اور ذلت کے سوا کچھ نہیں دے رہے۔ اب یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ظلم کو ختم کرے اور یہ ثابت کرے کہ ریاست اپنے شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے موجود ہے۔ خاموشی اب جرم ہے۔