ملک میں صرف ایک ماہ کی زرعی ادویات اور کھادوںکا اسٹاک رہ گیا

اگربر وقت زرعی ادویات کی ایل سیز نہ کھولی گئی اور پورٹس پرموجود خام مال ریلیز نہ کیا گیا تو ملک میں اجناس کی قلت ہو جائے گی، چوہدری رؤف الرحمن، شاہد سلیم قریشی

لاہور: پاکستان کراپ پروٹیکشن ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری رؤف الرحمن،سینئر وائس چیئرمین شاہد سلیم قریشی، سابق چیئرمین سعد اکبر خان اور کوارڈنیٹرقیصراولکھ نے لاہورپریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ملک میں صرف ایک ماہ کی زرعی ادویات اور کھادوں کا اسٹاک رہ گیا ہے۔اگر بروقت زرعی ادویات کی ایل سیز نہ کھولی گئی اور پورٹس پرموجود خام مال ریلیز نہ کیا گیا تو ملک میں اجناس کی قلت ہو جائے گی اور ملک کو فوڈسکیورٹی کے بڑے مسئلے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ملک کو ڈیفالٹ سے بچانے کیلئے زراعت کے شعبے کو مضبوط بنانا ہو گا۔وزیراعظم پاکستان اور وزیر خزانہ سے درخواست ہے کہ زرعی شعبہ کی ان پٹس کی ایل سیز کھولی جائیں اور پورٹس پر موجود خام مال کو فوری ریلیز کیا جائے۔انہوں نے مزید کہاکہ سبسڈی کی بجائے کسانوںکو بلا سود قرضہ فراہم کیا جائے۔کسان بلاسودقرضے سے سولر ٹیوب ویل لگائے گئے جس سے ملک میں توانائی کے بحران پر قابو پایا جاسکتا ہے۔کسان خوشحال نہیں ہوگا توملک خوشحال نہیں ہو سکتا۔شاہد سلیم قریشی نے مزید کہاکہ کوئی بھی انڈسٹری زراعت کے بغیر نہیں چل سکتی ہے۔اگر بر وقت پیسٹی سائیڈ امپورٹ نہ کہ گئی تو ملک کی تمام فصلوں کی پیداوار میں خطر ناک کمی واقع ہو سکتی ہے۔کیونکہ جدیدزراعت کا انحصارپیسٹی سائیڈ اور وائیڈ سائیڈ پر ہے زرعی ادویات اور جڑی بوٹی مار ادویات کے کم استعمال کی وجہ سے تقریباََ 30فیصد تک فصلوں کی پیداوار میں کمی ہو جاتی ہے۔ملک میں پیسٹی سائیڈ کی امپورٹ تقریباََ 100ارب روپے سالانہ ہے جوکہ بہت کم رقم بنتی ہے لیکن اس کا اثرملکی معیشت پر تقریباََ2000ارب کا آئے گا۔ہم صرف100ارب لگا کر تقریباََ 2000ارب روپے کا زرمبادلہ بچاسکتے ہیں۔اس کے علاوہ ملک میں فوڈ سکیورٹی کے مسئلے کو بھی آسانی سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے ورنہ فصلوں کی پیداوارمیں کمی کی صورت میں ہمیں اربوں ڈالر کی گندم،کپاس،چاول اور مکئی امپورٹ کرنی پڑے گی۔اگر چہ اسٹیٹ بینک نے زرعی مداخل کی ایل سیز کو ترجیح دینے کا وعدہ کیا لیکن کمرشل بینک اس ہدایت پر عمل درآمد نہیں کر رہے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.