بلوچستان کے زمینداروں میں جو احساس محروم پائی جاتی ہے ان کا خاتمہ کےا جائیگا‘زمرک اچکزئی

کوئٹہ(اے این اےی)صوبائی وزیر زراعت انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت بلوچستان مےں زراعت کے شعبے مےں بہتری لانے کےلئے ہنگامی بنےادوں پر حکومت بلوچستان کے ساتھ تعاون کرے زراعت کے شعبے مےں ترقی دےنے کےلئے ڈےمزپر توجہ دی جائے بلوچستان زراعت کے حوالے سے اےک زرخےز علاقہ ہے اور ےہاں پر جو قدرتی سبزےاں پےدا ہوتی ہے ان کا ڈےمانڈ پوری دنےا مےں بہت زےادہ ہے کپاس لسبےلہ اور بارکھان مےں کاشت کی جاتی ہے اگر وفاقی حکومت چاہئے تو کپاس کی کاشت سبی‘لورالائی‘خضدار مےں بھی ہوسکتی ہے ‘ان خےالا ت کا اظہار انہوں نے سی اے بی آئی اور ڈبلےو ڈبلےو اےف کے تعاون سے مقامی ہوٹل مےں منعقدہ سےمےنار سے خطاب کرتے ہوئے کےا‘ اس موقع پر ڈی جی اےکسٹنشن ‘ڈی جی زراعت جمعہ خان ‘ڈبلےو ڈبلےو اےف اور سی اے بی آئی کے نمائندوں نے بھی خطاب کےا‘ صوبائی وزےر زراعت انجےنئر زمرک خان اچکزئی نے کہاکہ بلوچستان کی آدھی فےصد آبادی زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے اور ان مےں نامےاتی ےعنی قدرتی سبزےاں پےدا ہوتی ہے انہوں نے کہاکہ ہم ڈبلےو ڈبلےو اےف اور سی اے بی آئی کے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بلوچستان مےں زراعت کے شعبے مےں بہتر لانے اور ان مےں مزےد اچھے اقدام اٹھانے پر جو کچھ کےا ہے ان کا ہم شکرےہ ادا کرتے ہےں انہوں نے کہاکہ بلوچستان زراعت کے 80فےصد آبادی پر انحصار کرتی ہے اور زراعت کا شعبہ ہی بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکتی ہے وزےراعلیٰ بلوچستان مےر جام کمال خان بھی صوبے مےں زراعت کے شعبے مےں بہتری کے خواہاں ہےں اور اس سلسلے مےں انہوں نے ہداےات بھی جاری کی ہے کہ صوبے کے زمےنداروں کو استفادہ دےنے کےلئے تمام وسائل بروئے کار لائی جائے انہوںنے کہاکہ کپاس ملک کے دےگر حصوں کی طرح بلوچستان کے لسبےلہ اور بارکھان مےں بھی کاشت ہوتی ہے اگر وفاقی حکومت صحےح معنوں مےں ترجےح دے تو کپاس کی کاشت سبی ‘لورالائی ‘خضدار سمےت صوبے کے دےگر علاقوں مےں بھی کاشت ہوسکتی ہے اور وفاقی حکومت ہمارے ساتھ تعاون کرےں تو زراعت کے شعبے مےں مزےد بہتری لائی جائےگی اور بلوچستان کے زمےنداروں مےں جو احساس محروم پائی جاتی ہے ان کا بھی خاتمہ کےا جائےگا انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے زمےنداروں کو ان تمام تر صورتحال سے آگاہ کردےاگےا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.