کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان نے آج دوپہر 12بجے بجلی روڈ تھانہ میں اجتماعی گرفتاریاں دینے کا اعلان کردیا ، یہ اعلان بلوچستان اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے بلوچستان اسمبلی کے رکن میر زابد علی ریکی رہائشگاہ پر منعقد ہونے والے متحدہ اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے بعد کیا۔
بلوچستان کی متحدہ اپوزیشن جماعتوں کااجلاس اتوار کی شب رکن صوبائی اسمبلی حاجی میر زابد علی ریکی کی رہائشگاہ پر جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالواسع کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں پشتونخوا میپ کے مرکزی رہنما عبدالرحیم زیارتوال ، بی این پی کے سینئر نائب صدر ملک عبدالولی کاکڑ،بلوچستان نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر ملک نصیر شاہوانی ، پشتونخواء ملی عوامی پارٹی نصراللہ خان زیرے،ارکان صوبائی اسمبلی احمد نواز بلوچ زابد علی ریکی،حاجی محمد نواز خان کاکڑ ،ا کبر مینگل، اختر حسین لانگو، حمل کلمتی، ثناء بلوچ،یونس عزیز زہری، نیشنل پارٹی خیر بخش بلوچ ،علی احمد لانگوسمیت دیگر نے شرکت کی ۔
اجلاس میں بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن ارکان کے خلاف مقدمہ درج اور اپوزیشن ارکان کی درخواست پر مقدمہ درج نہ کرنے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اجلاس کے بعد اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈوکیٹ نے این این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان اسمبلی کے اپوزیشن وہ ارکان جنہیں گزشتہ روز حکومتی کی جانب سے درج کی جانے والی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا ہے
آج دوپہر 12بجے ملک سکندر ایڈوکیٹ کی سربراہی میں ایم پی اے ہاسٹل سے بجلی روڈ تھانہ جائیں گے اور اجتماعی طور پرگرفتاریاں دیں گے انہوں نے بتایا کہ رکن صوبائی اسمبلی عبدالواحد صدیقی چونکہ بازو کے آپریشن کی غرض سے کراچی جارہے ہیں لہذا وہ گرفتاری نہیں دیں گے گرفتاریاں دینے کے موقع پر ہمارے مرکزی قائدین بھی ہمارے ساتھ ہونگے انہوں نے کہا کہ نواب اسلم رئیسانی سمیت دیگر 6ارکان اسمبلی جنہیں ایف آئی آر میں نامزد نہیں کیا گیا وہ بلوچستان اسمبلی کے باہر اپنا احتجاجی اجلاس کریں گے جہاں وہ لوٹ کھسوٹ کے لئے بنائے گئے بجٹ کے حقائق کو آشکار کریں گے