کوئٹہ( اسٹاف رپورٹر) لہڑی قبیلے کے معتبرین نے محراب پندرانی کیساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سریاب روڈ پر واقع نجی بس ٹرمینل کی زمین قانونی طریقے سے حاصل کی ،22 سالوں میں نواب ثناءاللہ خان زہری نے ملکیت کادعویٰ کیوں نہیں کیا ۔ چیف آف جھالاوان کی قدر کرتے ہیں گزارش ہے کہ وہ قبائلی طریقے سے مسئلہ حل کریں۔ یہ بات قبائلی رہنماءوٹرانسپورٹر زمیر لیاقت لہڑی ، سعید احمد لہڑی، باسط لہڑی ودیگر نے جمعرات کے روز لیاقت لہڑی کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی اس موقع پر انہوں نے چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ خان کی اخبارات میں شائع بیان پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ نجی بس ٹرمینل گزشتہ 22سالوں سے مذکورہ اراضی پر واقع ہے یہ اراضی ہم نے قانونی طور پر حاصل کی جس کی ملکیت کا دعویٰ آج تک کسی نے نہیں کیا ۔انہوں نے سوال کیا کہ ہمارے قبیلے کے معتبرین موجود ہیں کیا کبھی نواب ثناءاللہ خان زہری نے ان کے سامنے زمین کی ملکیت ظاہر کی ہے ؟انہوں نے کہا کہ محراب پندانی کے کیساتھ پیش آنے و الے افسوس ناک واقعہ کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لواحقین کو انصاف ملے تاہم پولیس لہڑی قبائل کے معززین اور معتبرین کے گھروں پر چھاپے ماکر چادر و چاردیواری کا تقد پامال کررہی ہے جس کی کسی صورت اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 12 روز سے میر حشمت لہڑی کو حبس بے جامیں رکھا گیا ہے انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر ٹاچر کیاجارہا ہے،حالانکہ مقدمہ میں ان کا نام شامل نہیں ہے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ میر حشمت لہڑی کو فوری طور پر رہا کیا جائے اگر رہا نہ کیا گیا تو صوبے بھر میں احتجا ج کا حق محفوظ رکھتے ہیں اس دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی تمام تر ذمہ داری کوئٹہ پولیس اور انتظامیہ پر عائد ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ لہڑی قبیلے کے لوگوں نے ہمیشہ قانون کا احترام کیا ہے مگر اب انہیں مجبور کیا جارہا ہے کہ احتجا ج کا راستہ اپناتے ہوئے قومی شاہراہوں کو بند کرکے دھرنے دیں ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بچے کی ہلاکت کے معاملے پرانہیں بھی افسوس ہے م قبائلی طریقے سے بچے کے لواحقین سے بات کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقدمہ میں نامزد افراد کو گرفتار کیا جائے ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے مگر ہمارے بے گناہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے
[…] کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے چیف آف جھالاوان کے بیان کو پریس کانفرنس کرکے غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی کیونکہ چیف آف جھالاوان […]