افغانستان سے سیب اور ٹماٹر کی در آمد اور ان پر ٹیرف کی شرح 60 سے کم کرکی27 فیصد تک لانے سے بلوچستان کے زمیندار شدید متاثر ہوں گے،رحیم کاکڑ

مرکزی انجمن تاجران بلوچستان رجسٹرڈ کے صدر عبدالرحیم کاکڑ ، حضرت علی اچکزئی ، میر یاسین مینگل، سعد اللہ اچکزئی، حاجی ہاشم کاکڑ، ظفر کاکڑ، عبدالخالق آغا، عبدالعلی دمڑ، ودان علی کاکڑ، اللہ داد اچکزئی ، جہانگیر لانگو، نقیب اللہ کاکڑ، عمر اچکزئی، نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کا جو مال ٹرانزٹ کے ذریعے دنیا سے ایران کے ذریعے سے آتا ہے وہ پابندی اٹھایا جائے جو کہ پاکستان کے ذریعے کراچی ٹو قندھاراسکے جو تجارتی معاہدہ ہواہے ان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہے کہ مذکورہ معاہدے کے طرح افغانستان سے سیب اور ٹماٹر کی در آمد اور ان پر ٹیرف کی شرح 60 سے کم کرکے 27 فیصد تک لانے سے بلوچستان کے زمیندار شدید متاثر ہوں گے کیونکہ معاہدے سے قبل تاجر برادری ، زمینداروں اور دیگر کو اعتماد میں نہیں لیا گیا جس کی مذمت کرتے ہیں اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ تاجر برادری بلوچستان کے دیگرممالک کے ساتھ مستحکم تجارتی تعلقات کے خواہاں ہے اور اسی طرح گزشتہ دنوں پاکستان کے سیکرٹری تجارت جواد پال اور افغانستان کے وزیر تجارت ملا احمد اللہ زابد کے مابین گزشتہ روز اسلام آباد میں پاکستان اور افغانستان کے مابین ترجیحی تجارتی معاہدہ پر معاہدہ ہوا ہے اس معاہدہ کے تحت افغانستان سے انگور، ٹماٹر، انار اور سیب کی پاکستان کو درآمد ہوگی جبکہ پاکستان سے آم ، کیلا، آلو اور کینو کی درآمد ہوگی معاہدے کے تحت مذکورہ پلوں اور سبزیوں پر ٹیرف کو 60 فیصد کرکے 27 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ہم کسی بھی ملک کے ساتھ تجارتی معاہدوں کے خلاف نہیں ہم معاہدے کے تحت افغانستان سے سیب اور ٹماٹر کی درآمد کو بلوچستان کے زمینداروں کیلئے نقصاندہ سمجھتے ہیں کیونکہ بلوچستان میں سالانہ 10 لاکھ ٹن سیب اور لاکھوں ٹن ٹماٹر پیدا ہوتا ہے افغانستان میں سیب کی پیداوار انتہائی کم ہے ہمیں خدشہ ہے اب ایران اور دیگر ممالک سے سیب کی افغانستان درآمد کے بعد پاکستان برآمد نہ ہو اس سے بلوچستان کے بد حال اور معاشی صورتحال سے دو چار زمینداروں کو نقصان ہوگا کیونکہ مقامی زمینداروں کے ٹماٹر اور سیب سستے داموں فروخت ہوں گے یہاں پر پیدا ہونے والے پھلوں اور سبزیوں دیگر اجناس سمیت تازہ پھلوں کو پروسیینگ پلانٹ نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے انہوں نے کہا کہ بارڈر ٹریڈ کے ذریعے ایران سے افغانستان مختلف سامان جاتا ہے اور وہی سامان واپس بلوچستان کے راستے آتا ہے جس میں وہ سامان اور آئٹمز بھی شامل ہیں جن پر پابندی ہے حکومت جن اشیاء پر پابندی ہے وہ پابندی ہٹا کر بلوچستان کے تاجروں اور زمینداروں کو سہولیات فراہم کریں تاکہ بلوچستان کے زمینداروں اور تاجروں کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہ اٹھانا پڑے اور ان کا کاروبار بھی متاثر نہ ہو زمینداروں کو ان کے پیدا ہونے والے پھل، سبزیوں اور اجناس کے صحیح دام مل سکے۔

تاجر برادری کی جو تحفظات ہیں ان کو دور کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.