چیئرمین بلوچستان بورڈ محمد اسحاق نے میڑک کے نتائج کےدوران گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایات کی روشنی میں بورڈ آفس کی انسٹیٹیوشنل اسسمنٹ کی گئی جس کے دوران مختلف اسٹریٹیجک ترجیحی مسائل سامنے آئے، جن میں سب سے بڑا مسئلہ میٹرک نتائج میں تاخیر تھا۔ انہوں نے کہا کہ نتائج میں تاخیر کے باعث سمر اور ونٹر زون کے طلبہ کے تعلیمی سیشن میں فرق پیدا ہو رہا تھا، جسے دور کرنے کے لیے بورڈ نے جامع اصلاحات متعارف کروائیں۔
انہوں نے کہا کہ پوری ٹیم کی مشترکہ کوششوں سے امسال 2025 کے مقابلے میں دو ماہ پہلے میٹرک نتائج کا اعلان کیا جا رہا ہے، جبکہ نتائج کے معیار میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ سپروائزری اسٹاف کی سو فیصد تعیناتی بیلٹنگ کے ذریعے کی گئی، جبکہ تمام امتحانی عمل کو شفاف بنانے کے لیے خصوصی کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں۔
محمد اسحاق نے بتایا کہ بلوچستان بورڈ کی تاریخ میں پہلی بار تمام امتحانی پرچوں کی مارکنگ سو فیصد تربیت یافتہ ایگزامینرز نے کی۔
ایگزامینرز کی رائے کے مطابق اس سال امتحانی پرچوں میں نقل کا رجحان نمایاں طور پر کم رہا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گزشتہ سال امتحانات میں سختی کے باعث طلبہ نے اس مرتبہ زیادہ محنت کی۔چیئرمین بورڈ نے مزید کہا کہ طلبہ کی سہولت کے لیے ریکاؤنٹنگ اور پیپر کینسلیشن کی سہولت آن لائن فراہم کر دی گئی ہے، جس کے تحت طلبہ کو بورڈ آفس آنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت نہم کے وہ طلبہ جو بعض مضامین میں ناکام ہوئے ہیں، اب سیکنڈ اینول امتحان میں انہی مضامین میں دوبارہ شرکت کر سکیں گے۔انہوں نے یو ایف ایم کیسز کے حوالے سے نئے ری ہیبلیٹیشن ماڈل کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایسے طلبہ کو مجرم سمجھنے کے بجائے ان کی اصلاح اور رہنمائی کی جائے گی۔ اس ماڈل کے تحت طلبہ کو کمیونٹی سروس، تربیتی پروگرام اور والدین و اساتذہ کی نگرانی میں دوبارہ تعلیمی دھارے میں لایا جائے گا تاکہ وہ مستقبل میں بہتر شہری بن سکیں۔