کوئٹہ، 10 اگست۔ بلوچستان ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی نے وزیراعلیٰ یوتھ سکل ڈویلپمنٹ اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ پروگرام کے حوالے سے نوجوانوں کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات پر اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پروگرام کا دائرہ صرف 1500 نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ صوبے کے 30 ہزار نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی ہنرمندی فراہم کرکے بیرون ملک باوقار روزگار سے جوڑنا ہے۔
ادارے کے مطابق پروگرام میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متاثرہ نوجوانوں کے معاملے پر وزیراعلیٰ بلوچستان کے احکامات پر چیف منسٹر انسپکشن ٹیم نے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ پیش کردی ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
بیان کے مطابق غیر معتبر پیشکشوں اور ورک پرمٹس کو ادارے نے ابتدا ہی میں مسترد کردیا تھا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ مقررہ مالی معاونت یورپی ممالک کا تصدیق شدہ ورک ویزا حاصل ہونے کی صورت میں دی جانی ہے۔
بی ٹیوٹا کے مطابق حکومت بلوچستان نے نوجوانوں کے لیے براہ راست روزگار پروگرام بھی شروع کیا ہے، جس کے تحت وہ نوجوان جو اپنے طور پر بیرون ملک روزگار کے لیے ویزا حاصل کررہے ہیں، انہیں مالی معاونت فراہم کی جاسکے گی۔
ادارے نے کہا کہ حکومت بلوچستان اور بی ٹیوٹا متاثرہ ہنرمند نوجوانوں کے مسائل کے فوری حل اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے پرعزم ہیں۔