بلوچستان میں انسداد پولیو مہم تیسری مرتبہ موخر،30 دسمبر سے آغاز ہوگا
ہیلتھ گرینڈ الائینس کی جانب سے انسداد پولیو مہم کے بائیکاٹ کے باعث مہم کی کامیابی میں رکاوٹیں سامنے آرہی ہیں
بلوچستان میں گزشتہ چند مہینوں میں پولیو کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے
کوئٹہ(یو این اے )بلوچستان میں انسداد پولیو مہم ایک بار پھر موخر کر دی گئی ہے، اور اب یہ مہم 30 دسمبر سے شروع ہو گی۔ ایمرجنسی آپریشن سینٹر(ای او سی) بلوچستان نے اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مہم کی تاریخ میں یہ تیسری بار تبدیلی کی گئی ہے۔پہلے انسداد پولیو مہم 16 دسمبر سے شروع ہونے والی تھی، تاہم اس تاریخ کو بعد ازاں 17 اور پھر 18 دسمبر تک موخر کیا گیا تھا۔ اب ای او سی نے اعلان کیا ہے کہ مہم 30 دسمبر سے شروع ہو گی، اور یہ فیصلہ ضلعی سطح پر تیاریوں کی کمی کے سبب کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق پولیو مہم کے لیے درکار تمام وسائل اور انتظامات مکمل نہ ہونے کے باعث اس کی تاریخ کو مزید آگے بڑھایا گیا ہے۔ای او سی کے مطابق مہم کے آغاز میں تاخیر کا مقصد مکمل تیاری اور پولیو مہم کے دوران بچوں تک ویکسین کی رسائی کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکام اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ تمام ضلعی سطح پر انتظامات مکمل ہوں تاکہ مہم کامیابی سے چل سکے اور پولیو کے خاتمے کے لیے موثر اقدامات کیے جا سکیںحکومت بلوچستان اور ایمرجنسی آپریشن سینٹر (ای او سی) نے پولیو کے کیسز میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے بچوں کو پولیو سے بچا کے قطرے ضرور پلائیں تاکہ اس بیماری کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ ہیلتھ گرینڈ الائینس کی جانب سے انسداد پولیو مہم کے بائیکاٹ کے باعث مہم کی کامیابی میں رکاوٹیں سامنے آرہی ہیں۔بلوچستان میں پولیو کے کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کی وجہ پولیو انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی اور صوبے میں صحت کے شعبے کی کمزوری کو قرار دیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں گزشتہ چند مہینوں میں پولیو کے کیسز میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملا ہے، تاہم انتظامیہ اس صورتحال پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے۔انسداد پولیو مہم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام متعلقہ ادارے اور کمیٹیاں یکجا ہو کر کام کریں، لیکن ہیلتھ گرینڈ الائینس کے بائیکاٹ کے بعد صوبے میں اس مہم کی رفتار سست ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ، مختلف اضلاع میں پولیو ٹیموں کی تیاریوں میں بھی کمی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔