وزیر خارجہ نے نے افغان شہریوں کی سلامتی، ان کے اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا.
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے چینی ہم منصب وینگ یی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں پید ہونے والی صورتحال پر علاقائی اتفاق رائے تشکیل دینے کے لیے دیگر ممالک کا دورہ کریں گے۔
وزیر خارجہ کا یہ بیان حکومت کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ خطے کا ہوگا۔
وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق شاہ محمود قریشی نے ٹیلیفونک بات چیت میں وینگ یی کو اپنے آئندہ کے دوروں کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور دونوں وزرائے خارجہ نے مشترکہ مقاصد بالخصوص افغانستان کی بدلتی صورتحال پر قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں:نئی حکومت جامع نہیں ہوئی تو ہر افغان مزاحمت کرے گا، احمد ولی مسعود
خیال رہے کہ ترجمان چینی حکومت نے کہا تھا کہ طالبان نے بار بار چین کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے کی امید ظاہر کی اور وہ افغانستان کی تعمیر نو اور ترقی میں چین کی شرکت کے منتظر ہیں۔
ترجمان چینی حکومت نے طالبان سے ‘اقتدار کی پر امن منتقلی’ اور ایک ‘کھلی اور جامع اسلامی حکومت’ کے قیام کے لیے مذاکرات کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے ساتھ افغانوں اور غیر ملکی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
شاہ محمود قریشی نے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کی بارے میں چینی ہم منصب کو آگاہ کیا اور افغانستان میں ایک جامع سیاسی تصفیے پر زور دیا جس کے لیے ان کا کہنا تھا کہ تمام افغانوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان، پاکستان اور خطے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس تناظر میں پاکستان نے افغان امن عمل کی پرعزم حمایت کی۔
مزید پڑھیں: افغانستان سے لوگوں کے انخلا میں تیزی
بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین نے ٹرائیکا پلس کا حصہ ہوتے ہوئے جنگ زدہ ملک میں امن کی کاوشوں کو آگے بڑھانے میں گرانقدر معاونت فراہم کی۔
انہوں نے افغان شہریوں کی سلامتی، ان کے اور ان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وزیر خارجہ نے اپنے چینی ہم منصب کو افغانستان سے مختلف ممالک کے سفارتی اور عالمی اداروں کے عملے، میڈیا اور دیگر افراد کے انخلا کے لیے پاکستان کی کاوشوں سے آگاہ کیا۔
چین اور پاکستان کے باہمی تعلقات پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے دونوں ممالک کو آہنی برادر اور اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیا۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ مفادات اور اہمیت کے امور پر قریبی رابطے اور ہم آہنگی استوار رکھنے کی روایت موجود ہے۔