جعفرآباد پولیوورکرکی زندگی خطرے میں پڑگئ
*جعفرآباد:پولیوورکرکی زندگی خطرے میں پڑگئ شدید گرمی حبس کے باعث جعفرآباد کے دوردراز علاقوں میں پھٹی پرانی موٹرسائیکلوں اور پیدل گھرگھرجاکرقوم کے مستقبل کے معماروں کوپولیوجیسی وباءسے بچاوکے قطرے پلانے میں مصروف عمل ہیں پانچ سوروپے فی دیہاڑی پہ پولیوورکرغربت کی وجہ سے کام کرنے پہ مجبور ہیں تمام ترسہولیات کی عدم فراہمی پہ انہیں شدیدمشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے ذرائع کی جانب سے بتایاگیاکہ فی پولیوورکرکیلے فی کس دس ہزار روپے جاری کیے جاتے ہیں اسکے علاوہ پولیوورکرکیلے تمام ترسہولیات کی فراہمی کیلے تمام تراخراجات گاڑی فیول ٹھنڈے پانی سیکورٹی کھانے پینے تک رقم مختص کیے جاتے ہیں لیکن جعفرآباد کے پولیوورکر کو یہ تمام سہولیات صرف کاغذی کاروائیوں میں مہیسرہیں گراونڈ اس سے برعکس ہے انتہائی غربت کے باعث تمام ترسہولیات سے محروم پانچ سوروپے فی دیہاڑی کام کرنے پہ مجبور ہیں شہری سیاسی وسماجی رہنماوں کی جانب سے حکومت بلوچستان محکمہ صحت کمشنرنصیرآباد سے فل فور نوٹس لینے کا مطالبہ کردیاانکا کہنا تھا کہ انتہائی شدید گرمی کے باعث دور دراز علاقوں میں پیدل اور پھٹی پرانی موٹرسائیکلوں میں پولیوورکر غربت کے باعث پانچ سوروپے دیہاڑی پہ ان سے کام لیاجاتاہے انکا فوری نوٹس لے کرانکے ساتھ داد رسی کی جائے انہیں تمام ترسہولیات فراہم کیے جائیں تاکہ انکا حقوق انہیں پورا ملے انتہائی غربت کے باعث نوکری سے نکالے جانے کی ڈرسے بیچارے کہیں پہ بھی شکایت درج کرانے سے بھی گریزاں ہیں پولیوورکرقوم کے مستقبل کے معماروں کی حفاظت کیلے کوشاں ہیں انکے جدوجہدکوخراج تحسین پیش کیاجاتا ہے ان ورکرکی حقوق فراہمی کیلے متعلقہ زمہ داران اپنا فرض نبھاکرانکے ساتھ انصاف فراہمی کویقینی بنایا جائے*