لورالائی. جے یو آئی بلوچستان کے صوبائی امیر رکن قومی اسمبلی مولانا عبد الواسع نے کہا کہ مسئلہ افغانستان پر فوری طور پر سینٹ و قومی اسمبلی کا جوائنٹ سیشن طلب کرکے دونوں ایوانوں کو اعتماد میں لیا جائے ۔ یہ با انہوں نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں طالبان کے تسلط کو پوری عالمی دنیا اور پاکستان تسلیم کرے طالبان اب ایک حقیقت ہیں جے یو ائی نے ہمیشہ افغانستان میں غیر ملکی تسلط و جبر کے خلاف آواز اٹھائی اور مجاہدین کی مکمل حمایت کی ہے انہوں نے کہا کہ وقت اور حالات تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں پاکستان نے اس سے قبل بھی انیس سو چھیانوے میں ملا عمر کی حکومت کو تسلیم کیا تھا اب کیوں مغربی ممالک کے طرف دیکھ رہا ہے مغرب نے تو پہلے بھی طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا انہوں نے کہا کہ افغانستان ہمارا برادر ہمسائیہ اسلامی مملکت ہے ہمیں فوری طور پر سفارتی تعلقات کو بحال کرتے ہوئے اس تسلیم کرنے کی پالیسی کا اعلان کرنا چاہیئے انہوں نے کہا کہ اسی طرع جے یو ائی کشمیر فلسطین شام عراق میں بھی اسلام اور آزادی کیلئے لڑنے والوں کی حمایت کرتی ہے یہ ہمارے مقاصد اور پرگرام میں شامل ہے کہ دنیا میں جہاں پر بھی مظلوموں پر ظلم ہو گا ہم بلا امتیاز انکی حمایت کرینگے انہوں نے کہ ملک پر غیر ائینی طبقہ حکومت کررہا ہے جسکی کوئی ائینی و قانونی حیثیت نہیں ہے ہم مسلط کردہ ٹولے کے خلاف پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کر رہے ہیں حکومت کو سپورٹ کرنے والے بھی اب عمران خان سے جان چھڑانے کے چکر میں ہیں اب وہ ایک نیا چوائس ڈھونڈنے کی کوشش میں مصروف ہیں ہم نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ کے کھندے کو استعمال کرنے سے گریز کیا ہے جے یو آئی عوام کے طاقت پر یقین رکھنے والی جماعت ہے ملک میں اٹھارویں ترمیمم کو چھیڑنے کی اجازت کسی صورت نہیں دینگے صوبائی خود مختیاری چھیننے کا ڈٹ کر مقابلہ کرینگے ملک میں صدارتی نظام کی بھر پور مخالت کرینگے جے یو ائی فیڈریشن پر یقین رکھتی ہے دفاع خارجہ خزانہ اور داخلہ کے سوا تمام اختیارات صوبوں کو دینے کے حق میں ہیں انہوں نے کہا کہ مہنگائی نے سفید پوش طبقے سے جینے کا بنیادی حق چھین لیا ہے صوبے میں واشک اور گوادر میں دہشت گردی کے واقعات نے ملک و صوبے کو ہلا دیا ہے نااہل صوبائی حکومت عوام اور سیکورٹی فورسز کے تحفظ میں ناکام ہو چکی ہے عوام کو روزگار صحت تعلیم صاف پانی کی فراہمی میں ناکامی پر وزیر اعلٰی کو کرسی سے الگ ہو کر تھوڑا اخلاقیات کا تو مظاہرہ کرنا چاہیئے عوام کو زندہ رہنے کا بھی نہیں دیا جارہا ہے اسپیکر اور وزراءبھی وزیر اعلٰی پر عدم اعتماد کر رہے ہیں بیوروکریسی بھی مداخلت پر کام نہیں کر رہی ہے جام حکومت میں ہر شعبہ جام ہے سول سیکرٹریٹ میں سنا ٹا ہے عوام در بدر ٹھوکریں کھا رہے ہیں جے یو ائی نے موجودہ حکومت کے خلاف پورے صوبے میں کامیاب احتجاج کیا جس پر عوام نے موجودہ حکومت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے لہذا یہ حکومت اب مزید چلنے کی پوزیشن میں دیکھائی نہیں دے رہی ہماری قومی سطح پر تحریک زور و شور کے ساتھ شروع ہونے جارہی ہے ملک میں حالات بدل رہے ہیں اور حکومت چند مہینوں میں ریت کی دیوار ثابت ہوکر ریزہ ریزہ ہوکر ختم ہو گی ملک میں عام الیکشن شفاف ہونے چاہیئے ہم الیکٹرک ووٹنگ مشین کو ایک ڈھونگ سمجھتے ہیں اور اسے مسترد کرتے ہیں انتخابی اصلاحات میں حکومت خود ہی مخلص نہیں اپوزیشن رہنماوں کے خلاف نیب کو استعمال کر کے سیاسی انتقام لیا جارہا ہے اس صورتحال میں حکومت سے ہر طرع کے سیاسی بات چیت کا دروازہ بند کر دیا گیا ہے