ملائیشیا کے سابق صدر مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ اگر ایک ناراض شخص کی وجہ سے فرانس مسلمانوں اور اسلام کو قصور وار ٹھہراتا ہے تو پھر فرانسیسیوں کو سزا دینا مسلمانوں کا حق ہے۔
اپنے سلسلہ وار ٹوئٹس میں مہاتیر محمد نے گستاخانہ خاکوں کی مذمت کی اور ماضی میں مسلمانوں کے ساتھ فرانس کے رویے سمیت آزادی اظہارِ رائے کی اصل حقیقت بیان کی۔
فرانس میں گستاخانہ خاکے دکھانے پر ایک چیچن نوجوان کے ہاتھوں استاد کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے مہاتیر نے کہا کہ اسلامی تعلیمات قتل کی اجازت نہیں دیتیں۔
ان کا کہنا تھا کہ قتل ایک ایسا عمل نہیں ہے جس کی میں اجازت دوں، چونکہ میں آزادی اظہار رائے پر یقین رکھتا ہوں، لہٰذا میرا نہیں خیال کہ اس کی بنیاد پر آپ دوسروں کی تضحیک کریں۔