حکومت گوادر کے مظاہرین کےساتھ مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دے ، رحمت صالح
گوادر دھرنے پر حکومت کی جانب سے غیر سنجیدہ رویہ عوام کے صبر کا امتحان لے رہا ہے
کوئٹہ(یو این اے)نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما اور بلوچستان اسمبلی میں ڈپٹی پارلیمانی لیڈر میر رحمت صالح بلوچ نے گوادر میں جاری پرامن دھرنے پر حکومت کی غیر سنجیدہ رویے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ عوام اپنے آئینی اور انسانی حقوق کے لیے دو ہفتوں سے زائد عرصے سے دھرنا دے رہے ہیں، لیکن حکومت نے ان کے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ یہ رویہ عوام کے ساتھ ناانصافی اور ان کے صبر کا امتحان لینے کے مترادف ہے، جو کسی بڑے عوامی ردعمل کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آل پارٹیز کے تحت جاری اس دھرنے میں عوامی مسائل اور بنیادی حقوق کی آواز بلند کی جا رہی ہے، مگر افسوسناک بات یہ ہے کہ وزیر اعلی بلوچستان سمیت حکومت کے کسی اعلی عہدیدار نے مظاہرین کے ساتھ ملاقات تک نہیں کی۔ انہوں نے شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے کے 13 دن گزرنے کے بعد حکومت نے محض ایک ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو مظاہرین کے پاس بھیجا، جو عوام کی توہین اور ان کے مطالبات کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔انہوں نے حکومت سے فوری طور پر ایک اعلی سطحی مذاکراتی ٹیم تشکیل دینے کا مطالبہ کیا جو مظاہرین کے ساتھ بامعنی بات چیت کرے اور ان کے تمام جائز مطالبات تسلیم کرے۔انہوں نے تلار چیک پوسٹ پر عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مستونگ، قلات، خضدار، واشک، پنجگور، اور لسبیلہ سمیت دیگر علاقوں سے آنے والی گاڑیوں کو گھنٹوں اور بعض اوقات دنوں تک روکا جاتا ہے۔ مسافروں کو بھوک، پیاس اور بے حسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے کہا کہ مکران ڈویژن میں گاڑیوں کی نقل و حرکت پر عائد پابندی انسانیت کے اصولوں کے منافی ہے۔ پنجگور، تربت، اور گوادر کی گاڑیوں کے درمیان نقل و حمل پر پابندیاں نہ صرف کاروبار کو تباہ کر رہی ہیں بلکہ عوام کی زندگیوں کو بھی اجیرن بنا رہی ہیں۔رحمت صالح بلوچ نے سرحدی تجارت پر عائد پابندی کو بلوچستان کے عوام کے معاشی قتل کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مکران، گوادر اور دیگر سرحدی علاقوں کے عوام کا روزگار ایران اور افغانستان کے ساتھ ہونے والی تجارت پر منحصر ہے۔ متبادل روزگار فراہم کیے بغیر سرحدی تجارت پر پابندی عائد کرنا عوام کو غربت، مایوسی اور بے روزگاری کے دلدل میں دھکیلنے کے مترادف ہے۔انہوں نے کہا، “حکومت کے ان غیر منصفانہ اقدامات کے بعد یہ سوال بے معنی ہو جاتا ہے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کیوں کرتے ہیں۔ جب ناانصافی بڑھتی ہے تو وہ نفرت کو جنم دیتی ہے، اور یہ نفرت انتقام کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔”انہوں نے مطالبہ کیا کہ سرحدی تجارت پر عائد پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے تاکہ عوام کو معاشی استحکام فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے گوادر میں بجلی، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ گوادر جیسے اہم شہر میں 24 گھنٹوں میں صرف چند گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے، جو عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔انہوں نے کہا کہ ناقص سیوریج نظام اور بنیادی انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی نے عوام کے مسائل میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ معمولی بارش کے بعد ساحلی شہر زیر آب آ جاتا ہے، جس سے عوام کی مشکلات دوگنا ہو جاتی ہیں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر عوام کے مسائل حل نہ کیے تو پرامن احتجاج مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔انہوں نے کہا، عوام کے مسائل حل کیے بغیر ترقی کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوامی مسائل کے حل کو اپنی اولین ترجیح بنائے اور فوری اقدامات کرے تاکہ گوادر کے عوام کو ان کے بنیادی حقوق مل سکیں اور ان کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ گوادر کے عوام کو مزید نظر انداز کرنا کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں اور حکومت کو عوام کے مسائل کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔