گوادر بجلی اور پانی بحران کے خلاف دھرنا دوسرے روز بھی جاری

گوادر بجلی اور پانی بحران کے خلاف دھرنا جاری دوسرے روز بھی جاری رہا ،مکران کوسٹل ہائی وے پر ایک سو کے قریب گاڈیاں کھڑی ہیں،انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوجانے کے بعد دھرنا کے شُرکا نے آج رات بھی مکران کوسٹل ہائی وے پر سوجانے کا فیصلہ کرلیا،دھرنا میں سینکڑوں لوگ شریک ہیں جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی جنرل سیکرٹری مولانا ہدایت اللہ بلوچ نے دھرنا کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ڈرایا جا رہا ہے کوسٹل ہائی وے پر دھرنا ختم کریں ورنہ ایکشن لیا جائے گا لیکن ہم ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے انہوں نے کہاکہ میں اگر جماعت اسلامی میں نہ ہوتا تو آج میں ڈاکٹر اللہ نزر کے ساتھ پہاڈوِں میں ہوتا انہوں نے کہا کہ ہم پر زمین تنگ کی جارہی ہے نہ ہمیں بجلی دی جاتی ہے اور نہ پانی بس ترقی کے نام پر گوادر کو بیچا گیا ہے انہوں نے کہاکہ ہمارے مطالبات معمولی ہیں لیکن حکومت انھیں حل کرنا نہیں چاہتی انتظامیہ کے ساتھ مزاکرات ناکام ہوچکے ،جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں ہونگے دھرنا جاری رہے گا،مولانا ہدایت اللہ نے کہاکہ غیرملکی ٹرالر اور چائینیز ٹرالنگ کے زریعے ہمارے سمندر کو تباہ کردیا گیا ہے اُس پر فوری پابندی عائد کی جائے ،بجلی اور پانی بحران پر قابو پایا جائے اور پورے ضلع میں کیسکو ناجائز بلنگ کے زریعے لوگوں کو تنگ کررہی ہے اس پر فوری ایکشن لیاجائے ،پاکستان کوسٹ گارڈ کی تحول میں لیے گئے کشتیوں کو چھوڈ دیا جائے ،منشیات کے اڈوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے ایرانی بارڈر جس سے ہمارا روزگار وابستہ ہے اُسے فوری طور پر کھولا جائے مولانا ہدایت اللہ بلوچ نے کہا کہ گزشتہ رات ڈپٹی کمشنر گوادر ہمارے ساتھ مزاکرات کرنے آیا تھا لیکن اس کے ساتھ ہمارے مزاکرات ناکام ہوگئے اسی لیے ہم نے پوری رات مکران کوسٹل ہائی وے پر گزاری انہوں نے کہ آج رات بھی وہ مکران کوسٹل ہائی وئے پر سو کر گزارینگے جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوتے احتجاج جاری رہے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.