صدر فوری عبوری حکومت تشکیل دیں اور مشاورت سے فیصلہ کریں، مارشل لاء لگا تو یہی سیاستدان ذمہ دار ہوں گے
سپریم کورٹ آف پاکستان کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں غیر جمہوری عمل کو روکیں
راتوں رات بڑی قانونی سازی ہو جاتی ہے، بورڈ برائے حکمت و ایمانداری BWH بنایا جاتا تو آج یہ ون مین شو اور آئینی بحران نہ ہوتا
کوئٹہ:امن ترقی پارٹی کے چیئرمین محمد فائق شاہ نے کہا کہ ملک میں آئینی بحران، غیر یقینی صورتحال اور تقسیم کے ذمہ دار حکمران اور سیاستدان سب ہیں، سپریم کورٹ کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں غیر جمہوری عمل کو روکیں، لوٹا کریسی، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ، لیٹر گیٹ اسکینڈل، اور غیر قانونی اقدامات سپریم کورٹ کو سب چیزوں کو دیکھ کر جاندار فیصلہ دینا چاہیے تاکہ غیر جانبدار انتخابات کی فضا ھموار ھو، صدر فوری مشاورت سے عبوری حکومت تشکیل دیں، اپوزیشن کو بھی دعوت دیں تاکہ اطمینان کے ساتھ نئے الیکشن میں جائیں، انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کو لوٹا کریسی، اسپیکر کی رولنگ، آرٹیکل 5، لیٹر گیٹ اسکینڈل سب کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا ھو گا، اس میں جس جس نے جہاں جہاں غیر قانونی حرکت کی ھے اسے سخت سزا دی جائے، تاکہ جاندار فیصلے سے جمہوریت مستحکم ھو، سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن، فوج، دیگر قانونی ماہرین مل کر مسائل کا حل تلاش کریں، مارشل لاء لگا تو زمہ داری سیاستدانوں اور حکمرانوں کی ھوگی، وہ میچورٹی کا مظاہرہ نہیں کر سکے، محمد فائق شاہ نے کہا کہ تمام اداروں پر مشتمل بورڈ برائے حکمت و ایمانداریBWH بنایا ھوتا تو آج یہ آئینی بحران، ون مین شو اور رسہ کشی نہ ھوتی، راتوں رات بڑی بڑی ترامیم کر دی جاتی ہیں مگر بورڈ بنانے میں کیا رکاوٹ تھی؟ انہوں نے کہا کہ ملک میں تمام کار حکومت معطل ہیں عوام کا برا حال ھے اس کی کسی کو پروا نہیں کوئی پنجاب، کوئی سندھ، کوئی خیبرپختونخوا اور کوئی بلوجستان کو فتح کرنا چاہتا ہے، خواہشات نہیں قانون کی حکمرانی قائم کی جائے، عوام کو براہ راست فیصلے کا موقع ملنا چاہیے، انتخابات میں سے دولت، دھونس، دھاندلی اور خاندانی سیاست کا خاتمہ ھونا چاھیے صرف منشور، لائحہ عمل اور اہل افراد کو اگے آنے کا موقع دیا جائے، حیرت اور المیہ یہ ہے کہ راتوں رات مجرموں کو دبئی سے جرائم معاف کروا کر اسمبلی میں لایا جاتا ہے، پیسوں سے لوگوں کے ضمیر خریدے جاتے ہیں، لوٹا کریسی کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور دوسری طرف حکمران اقتدار کے نشے میں کرسی سے چپک جاتے ہیں، کیا قانون ان چیزوں کو روک نہیں سکتا، کوئی ایک بھی سیاسی جماعت جمہوریت اور قانون پہ پورا نہیں اترتی پھر مارشل لاء لگے تو کس کا قصور ھوگا؟ اس سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ ان سارے اقدامات کو دیکھ کر اپنی نگرانی میں جائزہ لے اور الیکشن کمیشن کو پابند کرے کہ وہ شفاف انتخابات کروائے، دھاندلی کا شور ختم ہو اور حکومت کو کو کام کرنے دیا جائے، امن ترقی پارٹی ہر جائز قدم کی حمایت اور غیر قانونی کام کے خلاف تحریک چلا رہی ہے، یہی جمہوریت کی اصل روح ہے۔