غوث بخش بزنجو کی برسی کی مناسبت سے تعزیتی ریفرنس

کوئٹہ ( اسٹاف رپورٹر) نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں نے کہا ہے کہ پارٹی میر غوث بخش بزنجو کے سیاسی افکار کی اصل وارث ہے، ملکی بقاءمیر غوث بزنجو کے فلسفے کو آگے بڑھانے میں ہے ،پاکستان میں جب تک قوموں کی خودمختاری تسلیم ، عدلیہ میں مداخلت بند اور طاقت کا سرچشمہ پارلیمنٹ نہیں ہوگا اس وقت تک ملک مستحکم نہیں ہوسکتا، کارکن 2023 کے انتخابات کے لئے گھر گھر جاکر پارٹی کا پیغام پہنچائیں جیت ہماری ہوگی ، ان خیالات کا اظہار نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان بلیدی ، سابق رکن صوبائی اسمبلی یاسمین لہڑی ، میر عبدالخالق بلوچ ، خیر بخش بلوچ ، بی ایس او ( پجار ) کے چیئرمین زبیر بلوچ ، ڈاکٹر اسحاق لہڑی ، سابق رکن بلوچستان اسمبلی شمع سحاق بلوچ ، کلثوم نیاز بلوچ ، ملک عبدالرحمٰن بنگلزئی ، میر شاوش حاصل بزنجو ، میر عطاءمحمد بنگلزئی اور دیگر نے بدھ کو کوئٹہ پریس کلب میں میر غوث بخش بزنجو کی برسی کی مناسبت سے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان بلیدی نے کہا ہے کہ میر غوث بخش بزنجو نے اپنی پوری زندگی صوبے کے عوام کے لئے وقف کی تھی ، انہوں نے بلوچستان کو صوبہ کی حیثیت دلانے میں اہم کردار ادا کیا ، بلوچستان یونیورسٹی اور میڈیکل کالج بھی میر غوث بخش بزنجو کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں میر غوث بخش بزنجو نے اپنی 70 سالہ زندگی کے 25 سال جیلوں میں گزارے جس کے نتیجے میں 9 ماہ گورنر بلوچستان اور 4 ماہ رکن قومی اسمبلی رہے۔ بلوچستان میں میر غوث بخش بزنجو کے پائے کا کوئی لیڈر نہیں جنہوں نے پوری زندگی صوبے کے عوام کی حقوق کے لئے جدوجہد کی۔نیشنل پارٹی کے پاس میر غوث بخش بزنجو کی فکر اور منظم سیاسی کارکن ہیں۔ پاکستان کو وفاقی آئین دینا بھی میر غوث بخش بزنجو کی کاوششوں کا نتیجہ ہے نیشنل پارٹی بابائے بلوچستان میر غوث بخش کے فلسفے پر عمل پیرا ہے ،ہم نے بی ایس او کے پلیٹ فارم سے سیاست کا آغاز کیا ، میر غوث بخش بزنجو جس سیاسی کارکن سے بھی ملے انتہائی شفقت اور محبت سے ملے اور وہ ان کا گرویدہ بنا ، بلوچستان کے قبائلی اور جاگیردارانہ نظام میں سیاست کرنا کوئی آسان کام نہیں ، پاکستان کی موجودہ ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے تمام ہمسایہ ممالک پاکستان سے ناراض ہیں ، ہمارے حکمران اس انتظار میں ہیں کہ افغانستان میں طالبان برسر اقتدار آئیں تاکہ وہ ان سے اچھے تعلقات استوار کرسکیں ،انہوں نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کو چھیڑا گیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ پاکستان میں جب تک قوموں کی مختاری تسلیم نہیں کی جاتی ، عدلیہ میں مداخلت بند نہیں ہوتی اور طاقت کا سرچشمہ پارلیمنٹ نہیں ہوگا اس وقت تک ملک مستحکم نہیں ہوسکتا۔موجودہ حکومت نے ساڑھے 3 برس سے نواز شریف اور زرداری کو کرپٹ ثابت کرنے کے لئے ایک ادارے کی خدمات حاصل کی اب وہی ادارہ بجائے زراری اور نواز شریف کی کرپشن ثابت کرنے کے حکمرانوں کے گلے پڑ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل پارٹی کے کارکن 2023 کے انتخابات کی بھرپور تیاری کریں اس بار جیت نیشنل پارٹی کی ہی ہوگی۔ 22 اگست کو نیشنل پارٹی کے زیر اہتمام سریاب روڈ پر میر حاصل خان بزنجو کی برسی کی مناسبت سے تقریب ہوگی کارکن اس میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں۔ دیگررہنماﺅں نے کہا کہ میر غوث بخش بزنجو کی سیاست میں ہی نظریاتی سیاست نظر آئے گی ، ملکی بقاءمیر بخش بزنجو کے فلسفے کو آگے بڑھانے میں ہے، میر غوث بخش بزنجو نے بلوچ قوم کو دنیا میں شناخت اور مقام دلایا ، ان کی اصولی ، فکری ، نظریاتی سیاست ، وسائل پر حق ، جمہوریت کے استحکام ، پارلیمنٹ کی بالادستی اور قومی شناخت پر ہم فخر کرتے ہیں ، آج ہمارا جو کردار ہے یہ ان کی جدوجہد کی بدولت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں پر سیاست کو گندہ کیا جارہا ہے جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا جارہا ، ملک میں عجیب صورتحال ہے۔ نیشنل پارٹی میر غوث بخش بزنجو کی پیروکار ہے اور رہے گی ، پارٹی نے اپنے آپ کو سیاسی اور پارلیمانی طور پر منوالیا ہے ، آج پورے ملک میں تسلیم جارہا ہے کہ میر غوث بخش بزنجو اس ملک کے نہیں بلکہ خطے کے لیڈر تھے۔ وہ مظلوم قوموںکے محسن تھے ، اگر ن کے وڑنپر عمل کیاجاتا تو ا?ج ملک جن حالات سے گزر رہا ہے یہ صورتحال نہ ہوتی

Leave A Reply

Your email address will not be published.