تحصیل دوبندی توبہ اغبرگ کے علاقے کلی حاجی عبدالستار خان، رہائش گاہ چیئرمین بخت محمد اچکزئی میں جمعیت علمائے اسلام کے زیراہتمام ایک پروقار پیغام امن کانفرنس منعقد ہوئی جس میں علماء کرام، قبائلی عمائدین اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی بلوچستان کے صوبائی امیر و سینیٹر محسن بلوچستان مولانا عبدالواسع نے کہا کہ امن اور بھائی چارہ ہی خوشحال معاشرے کی بنیاد ہیں اور جمعیت علمائے اسلام ہمیشہ سے امن، محبت اور استحکام کی داعی رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں ضروری ہے کہ ہم فرقہ واریت، لسانیت اور نفرتوں کو پس پشت ڈال کر قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق ایک پرامن معاشرہ قائم کریں۔
مولانا عبدالواسع نے مزید کہا کہ بلوچستان صوفیا و مشائخ کی سرزمین ہے جس نے ہمیشہ اخوت، قربانی اور ایثار کا درس دیا ہے، اور جے یو آئی نے ہمیشہ عوامی مسائل کو اجاگر کر کے پرامن اور جمہوری جدوجہد کے ذریعے ان کے حل کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ علم کے زیور سے آراستہ ہو کر معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کریں، کیونکہ قوموں کی ترقی تعلیم، اتحاد اور انصاف پر منحصر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جے یو آئی کی پالیسی دو ٹوک ہے کہ امن و ترقی کے بغیر کوئی معاشرہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ آخر میں انہوں نے میزبان چیئرمین بخت محمد اچکزئی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنے گاؤں میں اس اہم اور بابرکت اجتماع کا انعقاد کر کے امن و اخوت کے جذبے کو مزید فروغ دیا۔
انہوں نے کہا کہ آج جب امت مسلمہ فکری انتشار اور سیاسی انتشار سے دوچار ہے، تو مفتی محمود کے افکار و نظریات کی روشنی میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن کی رہنمائی پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہے۔ یہ کانفرنس صرف ایک یادگار اجتماع نہیں ہوگی بلکہ ایک عملی پیغام دے گی کہ جمعیت علمائے اسلام عوام کی واحد نمائندہ قوت ہے، جو اسلامی نظام کے نفاذ اور عوامی مسائل کے حل کے لیے عملی جدوجہد کر رہی ہے۔
مولانا عبدالواسع نے مزید کہا کہ قلعہ سیف اللہ کی ضلعی جماعت پر سب سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، انہیں شب و روز محنت کرکے اس اجتماع کو تاریخ کا ناقابلِ فراموش اجتماع بنانا ہوگا۔ یہ کانفرنس اس امر کا اعلان ہوگی کہ جے یو آئی اپنے ماضی کی سنہری روایات کی طرح آج بھی ملک و ملت کے حقیقی مسائل کے حل کے لیے پرعزم اور یکسو ہے۔انہوں نے کارکنوں کو تاکید کی کہ اس اجتماع کو محض ایک پروگرام نہ سمجھا جائے بلکہ ایک انقلابی مشن کے طور پر لیا جائے۔ ہر ضلع سے قافلے جوش و ولولے کے ساتھ قلعہ سیف اللہ پہنچیں اور دنیا پر یہ حقیقت آشکار کر دیں کہ جے یو آئی ہی عوام کی سب سے بڑی، منظم اور حقیقی قوت ہے۔