صوبائی وزیر آبپاشی میر محمد صادق عمرانی، صوبائی سیکرٹری آبپاشی سہیل الرحمن بلوچ اور چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی کی ہدایات پر سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل نصیرآباد مدثر ظفر کھوسہ نے ایگزیکٹو انجینئر کچھی کینال الٰہی بخش گاجانی کے ہمراہ کچھی کینال فیز ون کا تفصیلی معائنہ کیا۔
معائنے کے دوران کینال کے مختلف مقامات پر نقائص کی نشاندہی کی گئی اور متعلقہ حکام کو مرمتی کام فوری طور پر اور معیاری بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی۔
واپڈا حکام کے مطابق کچھی کینال فیز ون کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ چکا ہے جبکہ آر ڈی 1183 سے آر ڈی 1319 تک کینال کا حصہ محکمہ آبپاشی بلوچستان کے حوالے کیا جانا ہے۔
واپڈا کے سپرنٹنڈنگ انجینئر وحید حسین شیخ نے منصوبے کے تعمیراتی مراحل اور پیش رفت کے حوالے سے حکام کو بریفنگ دی۔
مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ کچھی کینال فیز ون بلوچستان کے پسماندہ اور زرعی علاقوں کے لیے انتہائی اہم منصوبہ ہے۔ کینال کے ذریعے پانی کی باقاعدہ فراہمی سے وسیع رقبے کو سیراب کرنے اور بنجر زمینوں کو قابل کاشت بنانے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ آبپاشی کسانوں کے وسیع تر مفاد میں نہری نظام کی بہتری اور پانی کی منصفانہ فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہا ہے۔ نہری پانی کی دستیابی سے کاشتکاروں کا ٹیوب ویلوں اور دیگر مہنگے ذرائع آبپاشی پر انحصار کم ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ منصوبے سے گندم، گنے، کپاس، سبزیوں اور دیگر فصلوں کی پیداوار میں اضافے کے امکانات روشن ہوں گے، جس سے کاشتکاروں کی آمدن میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
مدثر ظفر کھوسہ نے کہا کہ زرعی سرگرمیوں کے فروغ سے مقامی منڈیوں، کاروبار، لائیو اسٹاک اور دیگر معاشی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی، جبکہ کچھی کینال بلوچستان میں زرعی ترقی، غذائی تحفظ اور دیہی معیشت کے استحکام میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔