کوئٹہ میں اس وقت 4سو ٹیوب ویل شہریوں کو پانی کی فراہمی کیلئے کام کررہے ہیں، صالح ناصر

0 295

کوئٹہ : صوبائی سیکرٹری پبلک ہیلتھ انجینئرنگ صالح ناصر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام یوسف مرحوم کے دور حکومت میں سبزل روڈ پر واٹر فلٹریشن پلانٹ لگایا گیا لیکن تاحال یہ منصوبہ التواء کا شکار ہے اب صوبائی حکومت محکمہ پی ایچ ای نے اس کو فعال بنانے کیلئے 11کروڑ روپے کے خطیر رقم جاری کردی جس سے بہت جلد یہ پلانٹ فعال ہوگا ان خیالات کااظہار سیکرٹری پی ایچ ای صالح ناصر نے ’’آن لائن‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں اس وقت 4سو ٹیوب ویل شہریوں کو پانی کی فراہمی کیلئے کام کررہے ہیں تاہم ان کی مشینری ناقص ہونے کی وجہ سے اکثر خرابی رہتی ہے جس کی وجہ سے کوئٹہ کے شہریوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں خلل آجاتا دوسری بڑی وجہ کیسکو کی جانب سے محکمہ پی ایچ ای اور واسا کے ذمہ کیسکو کے ایک ار ب روپے سے زائد واجبات ہے اکثر وبیشر کیسکو حکام کی جانب سے بجلی کی ولٹیج میں کمی کردی جاتی ہے جس کی وجہ سے مشینری جل جاتی ہے اکثریت ٹیوب ویلوں میں چائنا کی سمرسیبل نصب ہیں ہماری کوشش ہے کہ تمام ٹیوب ویلوں کی مرمت بروقت ہو تاکہ کوئٹہ کے شہریوں کو پینے کے پانی کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے اس حوالے سے ضروری ہے کہ ان 4سو ٹیوب ویلوں کیلئے اچھی کمپنی کے سمر سیبل خرید لی جائیں جن کے 4سے 5سال تک وارنٹی ہے اگر وہ لگائی جائے تو اس سے کوئٹہ کے شہریوں کی پینے کی پانی ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے ٹیوب ویل کی خرابی کے سبب شہریوں کو مجبورا ٹینکرمافیا سے پانی منگوانا پڑتا ہے انہوںنے بتایا کہ شہر میں پینے کے پانی کیلئے جو لائن بچھایا گیا ہے وہ اب ناقص ہوچکا ہے جس سے شہریوں کو پینے کے پانی میں اکثر جگہوں پر نالیاں کا گندا پانی مکس ہونے کی شکایت بھی موصول ہورہی ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.