بلوچ اقوام مردم شماری میں حصہ لیں، قومیت کے خانے میں بلوچ،، ضرور لکھیں،میر اسد اللہ بلوچ

غیر قانونی فشنگ کا خاتمہ کیا جائے اور ٹرالر مافیاں کیخلاف سخت اقدامات کئے جائیں

کوئٹہ؛بی این پی (عوامی)صدارت میر اسد اللہ بلوچ بے کہا ہے کہ.بلوچ اقوام مردم شماری میں حصہ لیں قومیت کے خانے میں بلوچ،، ضرور لکھیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع ساحل کی حفاظت سمندری حیات کی آبیاری کیلئے اقدامات اٹھائے جائے غیر قانونی فشنگ کا خاتمہ کیا جائے اور ٹرالر مافیاں کیخلاف سخت اقدامات کئے جائیں۔ ماہی گیر خاندانوں کو روزگار تعلیم اور دیگر سماجی سہولیات ترجیح کے ساتھ مہیا کی جائیں۔ بین الاقوامی ڈونر کانفرنس کے روئیداد کے مطابق ملک کے مالی مسائل کو حل کیا ان خیالات کا اظہار میر اسد اللہ بلوچ نے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت مالی بحران کا شکار ہے ترقیاتی فند ز میں کمی واقع ہوئی ہے انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت بلوچستان کو اس کے حصہ کا فنڈز مہیاکرے۔ بلوچستان میں سیلاب کی وجہ سے معیشت زراعت اور سماجی زندگی بیشتر علاقوں میں مفلوج ہوکر رہ گئی ہے سیلاب متاثرین کی مالی مدد کی جائے۔ بلوچستان میں زراعت کی ترقی کا دارومدار نئے ڈیمز بنانے میں ہیں انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان میں ڈیمز تعمیر کرے اور زمینداروں کو زیادہ سے زیادہ وسائل دے تاکہ زرعی ترقی ممکن ہو سکے۔ بلوچستان کیلئے وفاقی ملازمتوں کا چھ (6)فیصد کوٹہ ہے جس پر صحیح عمل نہیں ہورہا بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو وفاقی ملازمتیں ان کے کوٹہ کے مطابق دی جائیں۔ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اسے سیاسی انداز میں دیکھا جائے طاقت کے استعمال سے یہ مزید گھمبیر ہوگا۔ کوئٹہ کراچی روڈ اور کوسٹل ہائی وے کو ڈبل ٹریک کیا جائے کیونکہ یہ روڈ حادثات کا سبب بن رہا ہے۔ گوادر روڈ کو آپریشنل کرکے اس کی آمدنی کا 50فیصد صوبائی حکومت کو دیا جائے انہوں نے کہا کہ مردم شماری میں بلوچسان کے باسیوں کو موقع فراہم اور بیرون ملک بیٹھے لوگوں کا اندراج کیا جائے مائیگریشن کرنے والے اور دیگر افراد کو شمار کیا جائے اور افغان مہاجرین کو مائنس کیا جائے۔ بلوچ عوام مردم شماری میں حصہ لیں اور فارم میں قومیت کے خانہ میں بلوچ،، ضرور لکھیں۔ سرحدی کاروبار،بارڈر میں لوگوں کو کاروبار کرنے دیا جائے اور مزید گیٹ بنائے جائیں۔ چیدگی اور آواران روڈ کی منظوری ہوئی ہے مکران میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور ایسے نیشنل گریڈ سے منسلک کی جائے۔ پنجگور 5لاکھ کی آبادی ہے،مرکزی حکومت نے ایئر پورٹ بند کردیا ہے، اسے فوری بحال کیا جائے۔ بولان روڈ سیلاب کی وجہ سے مسمار ہوگئی ہے اس کی تعمیر و مرمت کیا جائے۔ بلوچستان میں منشیات کی پھلاو کی وجہ سے نوجوان نسل تباہی کی طرف گامزن جبکہ اینٹی نارکوٹیکس کی کارکردگی مایوس کن ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ منشیات کہ منشیات کے پھلاو کیخلاف سخت اقدامات اٹھائی جائیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے اغوابرائے تاوان کا سلسلہ بند کیا جائے،غیر قانونی و غیر آئینی گرفتاریوں کامکمل خاتمہ کیا جائے۔ بارڈر ٹریڈ کو بضابطہ شروع کیا جائے اور امیگریشن سینٹرز قائم کیئے جائیں۔ پسنی جیٹی کی ڈریجنگ کا عمل گزشتہ کئی سال سے رکھی ہوئی ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ اسے فوری طور پر بحال کیا جائے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.