جھالاوان : سابق وزیراعلیٰ بلوچستان چیف آف جھالاوان نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا ہے کہ جھالاوان میڈیکل کالج کی منتقلی اور اس کو غیر فعال بنانے کے بارے میں صوبائی حکومت کی بددیانتی اور بدنیتی کھل کر سامنے آرہی ہے ، جھالاوان میڈیکل کالج یہاں کے نئی نسل کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہوگا ، ہم اس منتقلی کو ہر گز نہیں ہونے دیںگے اگر زور زبردستی اس طرح کرنے کی کوشش ہوئی تو اس کا خطرہ ہوگاکہ بلوچستان میں ایک اور زرعی کالج جیسی غلطی ہو جس کی وجہ سے اقوام اور علاقے آپس میں دست و گریباں ہو ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی ضلع خضدار کے عہدیداروں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ نواب ثناء اللہ خان زہری نے کہا کہ بلوچستان جھالاوان کے لوگ اس اہم ایشو پر متحد و متفق ہیں ہم جلد مل بیٹھ کر اس بارے میں ایک روڈ میپ کا اعلان کریں گے ، اسمبلی اور اسمبلی کے باہر احتجاج کی طریقے کو اپنائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ روز اول سے اس منصوبے کی تکمیل میں بدنیتی کے عنصر شامل تھے ، اس منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور منتخب نمائندوں نے مل کر اس جھالاوان میڈیکل کالج کے لئے مختص کروڑوں روپے تعمیر و دیگرنام نہاد مدات کے سلسلے میں مبینہ طور پر ہڑپ کرلئے ہیں۔ اب یہ لوگ اپنی چوری کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے جھالاوان میڈیکل کالج کے قیام میں مشکلات و غلط فہمیاں پیدا کررہی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہر صورت میں جھالاوان میڈیکل کالج اس مختص کردہ جگہ پر قائم رہے گی ، حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ سابقہ مالی بے ضابطگیوں کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لینے کے ساتھ ملوث افراد کے ساتھ ضروری تادیبی کارروائی کرے اور آئندہ پیش ہونے والے پی ایس ڈی پی میں جھالاوان میڈیکل کالج کے تعمیری ضرورتوں کے مطابق اس کے لئے فنڈز رکھے جائیں ۔خضدار جھالاوان کا مرکز اور بلوچستان کا دل ہے یہاں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں اور خاص کر ہمارے بچیوں کو دوسرے اضلاع میں جا کر میڈیکل پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے ۔ انہوں نے آل پارٹیز شہری ایکشن کمیٹی خضدار کو یقین دہانی کرائی کہ اس قومی اور اہم ایشو پر وہ جو بھی لائحہ عمل طے کریں گے میں اور میرے تمام ساتھی ان کی اس احتجاج میں ااور لائحہ عمل میں بھر پور ساتھ دیں گے ۔