اپیکااور پٹوار ایسوسی ایشن کا وکلاءکے رویہ کیخلاف ڈی سی آفس، تحصیل آفس اور بندوبست آفس میں قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان

0 342

کوئٹہ,,,,,

اپیکااور پٹوار ایسوسی ایشن نے وکلاءکے نامناسب رویہ کیخلاف ڈی سی آفس، تحصیل آفس اور بندوبست آفس میں پیرکے روز تک قلم چھوڑ ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ معاملہ حل نہ ہونے پر آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔اداروں میں تصادم نیک شگون نہیں مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنا چاہتے ہیں۔ پیر کے روز ڈی سی آفس میں وکلاءکی جانب سے عملہ کیساتھ نامناسب رویہ اور کار سرکار میں مداخلت کیخلاف اپیکا اور پٹ وار ایسوسی ایشن کی جانب سے ڈی سی آفس کے احاطے میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ اس موقع پر اپیکا اور پٹ وار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وکلاءڈی سی آفس، تحصیل آفس اور بندوبست آفس میں افسران اور عملہ کے پاس جاکر انہیں غیر قانونی کام کرنے کیلئے دباﺅ ڈالتے ہیںجس کیخلاف آج کوئٹہ سمیت بلوچستان کے اکثر تحصیل دفاتر میں وکلاءکیخلاف اپیکا اور پٹ وار ایسوسی ایشن نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے ۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ چند مخصوص وکلا تحصیل آفس میں لینڈ مافیا کی پشت پناہی کر تے ہوئے ناجائز کام نہ کرنے پرتحصیل عملے کو دھونس دھمکیاں دیتے ہیں چند مخصوص وکلا بطور ایجنٹ ڈی سی آفس میں باقاعدگی سے لوکل ڈومیسائل کے اجرا اور رجسٹری دستاویزات میں بھی ملوث ہیں اورڈی سی آفس کے عملے کے نام پر لوگوں سے پیسے لیکر ڈی سی آفس اور عملہ مال کو بدنام کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاءبرداری کو قانون کے برعکس سرکاری افسران اور ملازمین کو غیر قانونی کام کرنے کیلئے دباﺅ ڈالنا زیب نہیں دیتا ۔ انہوں نے کہا کہ پڑھے لکھے طبقہ سے تعلق رکھنے کے باوجود وکلاءکی جانب سے مختلف محکموں میں آکر افسران اور عملہ کی تذلیل کرنا باعث افسوس ہے وکلاءبرداری تمام ایسوسی ایشنز کے عہدیداروں کو چائیے کہ وکلاءکے اس غیر ذمہ دارنہ رویہ کا نوٹس لیں حالیہ واقعہ سے قبل بھی وکلاءکی جانب سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ثانیہ صافی تحصیلدار سٹی سعید سمیع خان کیساتھ بھی وکلاءکی جانب سے اسی طرز کا رویہ اختیار کیا گیا جو اب ناقابل برداشت ہوتا جارہا ہے ، ڈی سی آفس میں وکلاءکی جانب سے عملہ کیساتھ نامناسب رویہ اور کار سرکار میں مداخلت کیخلاف اپیکا اور پٹوار ایسوسی ایشن آج بروز جمعرات سے پیر تک قلم چھوڑ ہڑتال کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اداروں میں کشیدگی نہیں چاہتے مسئلہ مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں لہذا معاملے کو افہام وتفہیم سے حل کیا جائے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.