کوئٹہ :متاز قبائلی اور سیاسی شخصیات نے سابق وزیر اعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری سے متعلق ٹرانسپورٹرز کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نواب ثناءاللہ زہری کی ملکیت سے متعلق بیان کو غلط رنگ دیکر قبائلی تنازعے کی جانب لے جایا جارہا ہے چیف آج جھالاوان نواب زہری کی کسی قوم یا قبیلے سے کوئی جھگڑا نہیں بلکہ ایک ٹرانسپورٹر اور ان کے صاحبزادوں سے ہے اگر جرگہ طلب کیا گیا تو جھالاوان اور سراوان کے منصفین کے سامنے زمین کی ملکیت کے دستاویزات پیش کرینگے یہ بات سیاسی و قبائلی عمائدین میر عبدالرحمان زہری ، میر عظمت جتک، میر سیف اللہ پندرانی، میر عبدالنبی زہری ، ملک محمد عمر زہری،اور میر محمد یعقوب زہری نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہی انھوں نے کہا کہ زمین کے تنازعے اور کمسن محراب پندرانی(زہری) کی شہادت کے مسئلے کو حل کرنے کے بجائے چیف آف جھالاوان کے بیان کو پریس کانفرنس کرکے غلط رنگ دینے کی کوشش کی گئی کیونکہ چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ زہری نے زمین کی ملکیت سے متعلق جو بیان دیا اس میں انھوں نے واضح کیا کہ ان کی اپنی اراضی پر ہی نواب ثناءاللہ خان زہری کے قبیلے کے افراد کو قتل کیا جارہا ہے لیکن مذکورہ ٹرانسپورٹر اور ان کے بیٹوں نے نواب ثناءاللہ زہری کے بیان کو غلط رنگ دیگر لہڑی قبیلے سے جوڑنے کی کوشش کی جو انتہائی افسوسناک عمل ہے ,
انھوں نے کہا کہ چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ زہری نے نہ صرف زہری قبائل بلکہ بلوچستان میں بسنے والے تمام اقوام کی خیر خواہی کی ہے اور ان کے سرپر دست شفقت رکھا ہے ٹرانسپورٹر کے بیٹوں کے ہاتھوں شہید ہونیوالے کمسن محراب پندرانی(زہری) کی شہادت پر آواز اٹھاناا ور بچے کے والدین کو انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کرنا ہر شخص کا فرض ہے اور نواب ثناءاللہ زہری نے ہر وقت مظلوموں کا ساتھ دیا ہے یہی وجہ کہ چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ زہری شہید محراب پندرانی(زہری ) کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کےلئے جدوجہد کررہے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ مذکورہ ٹرانسپورٹرز نے واقعہ اور اس کے بعد زہری قبیلے سے آنیوالے ردعمل کو قبائلی تنازعے کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی انھوں نے کہا کہ نواب ثناءاللہ زہری نے اقوام زہری سے تعلق رکھنے والے محراب پندرانی (زہری) کے قتل کی مذمت کی اور یہی کہاکہ ان کی اپنی اراضی پر ان ہی کے قبیلے کے افراد کو بے دردی سے قتل کیا گیا انھوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹر کی جانب سے جن افراد کے نام لیئے گئے ہیں جن میں میر عاصم کرد گیلو اور میر مقبول لہڑی شامل ہیں تو وہ ہی لوگ ثالث بنیں اور نواب ثناءاللہ زہری کی جانب سے زمین کی ملکیتی دستاویزات پیش کرنے کےلئے ہم تیار ہیں دونوں ثالثین اگر سراوان یا جھالاوان کے منصفین پر مشتمل جرگہ بلانا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں
انھوں نے کہا کہ بحیثت وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ زہری چاہتے تو ایک دن میں زمین کوقبضہ مافیا سے واگزار کرواتے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ نواب ثناءاللہ زہری نے میر عاصم کرد گیلو اور میر مقبول لہڑی کو کئی مرتبہ انھیں زمین کے تنازعے کو حل کرنے کا کہا لیکن بدقسمتی سے مسئلہ حل نہ ہوسکاانھوں نے کہا کہ بحیثت چیف آف جھالاوان نواب ثناءاللہ زہری کے سامنے وہ ہی مقام لہڑی قبائل کو حاصل ہے جو زہری اور بلوچستان میں بسنے والے دیگر اقوام کو حاصل ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ مذکورہ ٹرانسپورٹر نے معاملے کو لہڑی قبائل سے جوڑنے کی کوشش کی تاکہ برادر اقوام میں قبائلی تنازعہ جنم لے انھوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹر اور انکے بیٹوں کی جانب سے قبائلی تنازعے کو ہوا دینے کی کوشش قابل مذمت ہے اور چیف آف جھالاوان کی حیثیت سے نواب ثناءاللہ زہری کسی بھی شخص کو اس طرح کے بیانات کے ردعمل میں کسی کو جانی و مالی نقصان کی اجازت نہیں دینگے حاجی فیروز لہڑی اور انکے بیٹوں کی جانب سے خدا نہ خواستہ کوئی ایسا اقدام اٹھانے کی کوشش کی گئی جس سے برادر اقوام کو جانی و مالی نقصان پہنچے تو یہ مذکورہ ٹرانسپورٹر اور اس کے کاروبار کےلئے انتہائی خطرناک ہوگا کیونکہ بلوچستان کے کونے کونے میں نہ صرف اقوام زہری آباد ہے بلکہ نواب ثناءاللہ زہری کے چاہنے والے ہر جگہ بستے ہیں اور مذکورہ ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں بلوچستان کے کسی بھی علاقے سے آگے نہیں جاسکیں گی حاجی فیروز لہڑی اور ان کے بیٹوں کو ہوش کے ناخن لینا چایئے اور ذاتی مسئلے کو قبائلی رنگ نہیں دینا چایئے نواب ثناءاللہ زہری صوبے میں بسنے والے تمام اقوام میں امن و بھائی چارگی کی فضاءدیکھنا چاہتے ہیں۔
[…] اپوزیشن کا بنیادی حق ہے بدقسمتی سے یہ وہی اپوزیشن ہے جو نواب ثناء اللہ زہری کی حکومت سے لیکر آج تک ہمیشہ غیر جمہوری طریقے سے حکومت […]